Friday, May 20, 2022

خوف و دہشت پر مبنی داستان۔قسط نمبر 8

 خوف و دہشت پر مبنی داستان ✍

کتاب 📖:

قسط نمبر 8


وہ روشنی بن کر اس اندھیر نگری کو جگمگانے جا چکی تھی۔میرے حواس پر اپنی قربانی کی گہری چھاپ لگا گئی تھی۔میں مزید کوئی کہانی پڑھنے کے موڈ میں نہ تھا۔مگر پھر۔۔۔آج کی رات میں اپنے بس میں نہ تھا۔ میں کتاب کی گرفت میں تھا جو کہ میرے ہاتھ میں تھی۔نیا باب کھل چکا تھا۔۔۔ The Teacher۔۔۔ میں نے بے دلی سے کہانی شروع کی۔۔۔

"میرا نام شاہ زین ہے۔۔۔"

میں نے اب ارادتاً ہی سامنے دیکھا۔سفید شرٹ اور بلیک پینٹ میں ایک 30-32 سال کا خوش شکل بندہ بیٹھا تھا۔اس نے سرخ ٹائی لگا رکھی تھی۔داڑھی شیوڈ اور ہلکی ہلکی مونچھیں۔۔ بظاہر معزز اور پروفیشنل لگتا تھا۔۔۔

"میں ایک مشہور نجی ادارے میں ٹیچر تھا۔ میرے نام کا ڈنکا دور دور تک بجتا تھا۔ بائیولوجی کے حوالے سے میرا نام سٹوڈنٹس کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ میرے کولیگز مجھ پر رشک کرتے تھے۔"

میں یہ سب بے دلی سے سن رہا تھا۔

"اس رات بہترین رزلٹ کی خوشی میں ادارے میں اساتزہ کی ٹی پارٹی تھی۔گپ شپ میں کافی وقت گزر گیا۔تقریباً 8 بجے میں وہاں سے نکلا۔گھر کے راستے میں ایک سنسان گلی پڑتی تھی۔جیسے ہی میں وہ گلی مڑا۔یک دم میرے سامنے کوئی آگیا۔ میں ابھی سنبھلا نہ تھا کہ اس نے ایک رومال میرے منہ پر رکھا۔اس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہ رہا۔ نجانے کتنی دیر بعد میں ہوش میں آیا۔مجھے اپنے ہاتھ ایک کرسی سے بندھے محسوس ہوئے۔ میں نے جونہی ہاتھ ہلانے کی کوشش کی درد کی شدید لہریں میرے جسم میں سرایت کر گئیں۔ میں نے ہاتھوں کی طرف دیکھا تو میرے ہوش اڑ گئے۔ دونوں ہاتھ کرسی کے بازووں پر بڑے بڑے کیلوں کی مدد سے ٹھونکے ہوئے تھے۔مگر خون کا ایک قطرہ بھی نہ تھا۔جیسے کسی نے کمال مہارت سے یہ کام کرنے کے بعد میرے ہاتھ صاف کردیے ہوں۔ شدید درد کے باعث میں اب ہاتھ ہلانے سے قاصر تھا۔برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میں نے ارد گرد دیکھا۔یہ کوئی کمرہ تھا۔جو مختلف کاٹھ کباڑ سے بھرا پڑا تھا۔ کمرے کے درمیان میں ایک چھوٹا سا بلب لٹکا ہوا تھا۔جس کی روشنی کافی مدہم تھی۔ غور کرنے پر ایک کونے میں کوئی شخص بیٹھا دیکھائی دیا۔ یقیناً وہیں تھا جو مجھے یہاں تک لایا تھا۔مجھے ہوش میں آتا دیکھ وہ آہستہ آہستہ میری طرف بڑھنے لگا۔ قریب پہنچنے پر معلوم ہوا کہ اس نے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا۔"

قدرتی طور پر اب میں اس شخص کی طرف متوجہ ہونے لگا۔یا شاید اسے میری مکمل توجہ کا مرکز بنایا جا رہا تھا۔

"میں سمجھا شاید یہ کوئی اغوا برائے تاوان کا معاملہ ہے۔ مگر پھر اس نے میرے ہاتھوں کا یہ حال کیوں کیا؟؟؟ کہیں کوئی ذاتی رنجش؟؟؟نہیں نہیں میری تو ہر ایک سے بنی ہوئی تھی۔مخالفت تو عام بات ہے مگر ایسا تو کوئی دشمنی میں ہی کرتا ہے۔تو پھر وہ کون تھا؟؟؟؟ اس سوال کا جواب وہ خود ہی دے سکتا تھا۔ 

"کون ہو تم؟؟؟؟؟ کیا چاہتے ہو مجھ سے؟؟؟؟"

ماسک سے محض اس کی سرخ آنکھیں ہی دیکھائی دے رہی تھیں۔جو مجھ پر گڑی ہوئی تھیں۔میرے سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ وہ چپ چاپ کھڑا مجھے دیکھتا رہا۔

اس کا انداز بہت عجیب اور خوفناک تھا۔ میری بے بسی کہ میں خود کو آزاد کروانے کی کوشش سے بھی قاصر تھا۔ وہ مسلسل مجھے گھورے جارہا تھا۔اس کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے میں نے نگاہیں نیچی کر لیں۔اس نے اپنا ہاتھ میری ٹھوڑی پر رکھ کر میرا چہرہ اوپر اٹھایا۔دائیں بائیں موڑ کر دیکھا۔ جیسے اس کے لیے میں کوئی قربانی کا بکرا تھا۔

"تم بائیولوجی پڑھاتے ہو۔سنا ہے یگانہ روزگار ہو۔ یہ بتاو جسم کے کس حصے پر گولی لگنے سے درد بے انتہا ہوتا ہے؟؟"

اس کی آواز خاصی مردانہ تھی۔سوال عجیب تھا۔میں نے چونک کر اسے دیکھا۔ 

"اچھا چھوڑو یہ بتاو جب گھٹنے پر خاص کر قریب سے گولی لگتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟؟؟"

ایک اور سوال۔۔۔مگر نجانے کیوں میں اسے جواب دینے سے گھبرا رہا تھا۔جب میں کچھ نہ بولا تو وہ خود گویا ہوا

"چلو میں بتاتا ہوکہ گھٹنے پر جب ایک خاص نشانے سے گولی لگتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔ گھٹنہ کارٹیلیج،لگامنٹ،مسلز اور نروز پر مشتمل انتہائی نازک نظام ہوتا ہے۔وہ گولی ارد گرد کے تمام ٹشوز کو چیرتی ہوئی گہرائی تک چلی جاتی ہے۔ اندرونی ساخت چورا بن جاتی ہے۔شروع میں ایک دھچکا محسوس ہوتا ہے۔پھر ایسے لگتا ہے جیسے پوری ٹانگ میں آگ لگ گئی ہو۔ کچھ ہی دیر بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر ذرا سی بھی ٹانگ ہلائی تو ٹوٹ کر جسم سے الگ ہو جائیگی۔پھر وہ ٹانگ شل پڑ جاتی ہے جیسے کبھی موجود ہی نہ تھی۔ ہاں مگرعموماً انسان مرتا نہیں ہے۔ بس ٹانگ کاٹنی پڑ جاتی ہے۔"

وہ یہ سب کیوں بتا رہا تھا؟؟؟ کیا وہ مجھے ذہنی تشدد کا شکار بنانا چاہتا تھا؟؟؟ اگر ایسا تھا تو وہ کامیاب ہوچکا تھا۔ 

تب ہی میری نظر اس کے بائیں ہاتھ پر پڑی۔جس میں ایک چھوٹا سا پسٹل تھا۔میرا حلق خشک ہوگیا۔اس نے وہ پسٹل میرے بائیں گھٹنے پر پھیرنا شروع کردیا۔۔۔

"جانتے ہو ٹیچر۔۔۔ میں تمہیں اسی درد کا احساس دلانے جا رہا ہوں۔ اچھا ہے۔تمہارا تجربہ ہو جائے گا۔ویسے بھی تمہیں نت نئے تجربے کرنے کا شوق ہے نا"

میں نے اپنی ٹانگ پیچھے کھینچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔۔۔

"ہو کون تم؟؟؟؟؟؟؟ میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا؟؟؟"

اس نے میرے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا

"ششششششش۔۔۔۔"

اور پھر ۔۔۔"ٹھا"۔۔۔ایک زوردار آواز کمرے میں گونجی۔ مجھے شدید دھچکا لگا۔پھر ایسے لگا جیسے ٹانگ کے اندر ہی کسی نے پگھلا ہوا فولاد ڈال دیا ہو۔رفتہ رفتہ جلن کا یہ احساس ایک ناقابل بیان درد میں بدلنے لگا۔سب ویسا ہی ہو رہا تھا جیسا اس نے بولا تھا"

میں نے فوراً اس کی ٹانگ پر نظر دوڑائی۔خون کے فوارے بہہ رہے تھے۔اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔یہ سارا بیان سن کر ویسے ہی خود میرے جسم میں ایک سرد لہر اٹھ چکی تھی۔ 

"میں جتنی شدت سے چلا سکتا تھا چلایا۔وہ درد مجھ سے ہرگز برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ وہ آرام سے کھڑا مجھے دیکھتا جارہا تھا۔جیسے میری دردناک چیخیں اس کے لیے باعثِ اطمینان ہو۔ 

"کککککک۔۔۔کون ہو تممم؟؟؟؟؟؟؟ ککک۔۔کیا۔۔۔کیا۔۔۔بگاڑا۔۔۔"

مجھ سے مزید نہیں بولا جارہا تھا۔

"اتنی جلدی کیوں ہے ٹیچر؟؟؟؟ تعارف کو آخر پہ چھوڑ دو۔ابھی تم اس درد سے لطف اندوز ہو لو۔ تب تک کچھ باتیں کرلیتے ہیں۔"

یہ کیسا انسان تھا؟؟؟ انسان تھا یا درندہ؟؟؟؟ 

"ٹیچر۔۔۔یہ بتاو کافی خوش شکل ہو تم۔ذہین ہو۔ ہر جگہ تمہارے ڈنکے بجتے ہیں۔کبھی ان سب باتوں کا فائدہ اٹھایا ہے؟؟؟ سمجھ رہے ہو نا میرا مطلب؟؟؟؟"

میں اس کی بات پر چونکا۔۔۔۔کیا مطلب؟؟؟ کیسا فائدہ؟؟؟؟ وہ کیا کہہ رہا تھا؟؟؟

"اچھا چھوڑو۔۔۔یہ بتاو ایک استاد کا اپنے شاگرد کے ساتھ تعلق کیسا ہوتا ہے؟؟؟ روحانی باپ کا نا؟؟؟"

وہ شخص مجھے ذہنی مریض لگنے لگا۔یہ کوئی ذاتی رنجش یا دشمنی نہ تھی۔وہ اذیت پسند ذہنی مریض تھا۔ اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک چھوٹا پیچکس نکال لیا۔

"ٹیچر تم میری کسی بات کا جواب نہیں دے رہے۔کتنی بری بات ہے۔مجھے تمہیں سزا دینی ہوگی"

اتنا کہتے ہی اس نے وہ ہاتھ بلند کیا۔۔۔پیچکس میرے گھٹنے سے اوپر مسلز میں سوراخ کرتے ہوئے نیچے تک چلا گیا۔میں جو پہلے ہی حواس باختہ ہوچکا تھا اس بار دیوانہ وار چیخنا شروع کر دیا۔اس نے وہ پیچکس نکالتے ہوئے کہا

"اب بولو ٹیچر ۔۔۔روحانی باپ نا؟؟؟"

میں نے کراہتے ہوئے فوراً اپنا سر اثبات میں ہلایا۔

"شاباش۔۔۔۔اب یہ بتاو۔۔۔کیا تم نے اس رشتے کا پاس رکھا؟"

میں متذبذب تھا۔آخر وہ کیا کہلوانا چاہتا تھا مجھ سے۔۔۔ میں نے پھر اثبات میں سر ہلایا۔ اس کا ہاتھ ایک بار پھر فضاء میں بلند ہوا۔اسی سوراخ کے ساتھ ایک اور سوراخ۔۔۔ایک اور دردناک چیخ۔۔۔ 

"جھوٹ۔۔۔۔۔جھوٹ۔۔۔۔جھوٹ نہیں ٹیچر۔۔۔جھوٹ نہیں۔۔۔" 

اس نے چیختے ہوئے کہا۔۔۔۔"

گھٹنے سے اوپر اس کی ٹانگ پر پینٹ میں دو سوراخ ہوچکے تھے۔خون ان حصوں سے ایسے نکل رہا تھا جیسے پائپ سے پانی نکلتا ہے۔ 

"میں نے بے بسی سے اسے دیکھا۔تبھی اس نے اپنی دوسری جیب سے ایک تصویر نکالی۔اور میری آنکھوں کے نہایت نزدیک لا کر زور سے چلایا

"پہچانتے ہو اسے ٹیچر؟؟؟؟؟؟؟؟ پہچانو اسے تم۔یا میں پہچان کرواوں؟؟؟؟؟؟"

شروع میں مجھے وہ تصویر دھندلی دیکھائی دی۔۔۔پھر آہستہ آہستہ جیسے ہی منظر صاف ہوا۔۔۔۔ مجھے جیسے 220 وولٹ کا دھچکا لگا۔مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ 

"یییی۔۔۔یہ؟؟؟؟؟ "

میری آنکھیں فرط حیرت سے پھیل گئیں۔

"ہاں۔۔۔یہ۔۔۔پہچانو اس معصوم ہنستے مسکراتے چہرے کو۔یہ علینہ ہے۔میری بہن۔۔۔"

وہ واقعی علینہ تھی۔آج سے دو سال پہلے میری سٹوڈنٹ رہ چکی تھی۔مگر یہ شخص علینہ کا بھائی؟؟؟؟ میرے گلے میں کانٹے چھبنے لگے۔۔۔اب مجھے ساری بات سمجھ آنے لگی تھی۔۔۔"

جاری ہے۔۔۔

☆☆☆☆☆۔

خوف و دہشت پر مبنی داستان۔قسط نمبر 7

 خوف و دہشت پر مبنی داستان ✍

کتاب 📖:

قسط نمبر 7

۔


اب یہاں سے پڑھیے☆☆☆☆☆


میں بس چپ چاپ اسے دیکھنے لگا۔

"ہم تینوں مضطرب دروازے کی جانب دیکھنے لگے۔ابا اس وقت تک کسی کو فون کر چکے تھے۔میں نے اندازہ لگایا کہ وہ ولی شاہ ہوں گے۔جب یہ خاموشی طویل ہونے لگی تو اماں دروازہ پیٹنے لگیں۔۔

"کون ہو تم؟؟؟ ہم نے کیا بگاڑا ہے تمہارا؟؟؟ کیوں میری معصوم بچی کے پیچھے پڑ گئے ہو؟"

اتنا کہنا تھا کہ اماں کو ایک زوردار دھچکہ لگا۔جیسے کسی نادیدہ قوت نے انہیں ہوا میں اچھالا ہو۔اماں سیدھا پچھلی دیوار پر جالگیں۔ان کا سر شاید پھٹ گیا تھا۔خون ان کے چہرے سے ہوتا ہوا ٹپ ٹپ زمین پر گرنے لگا۔ میں اور ابا اماں کی طرف دوڑے۔ ابھی اماں کے نزدیک ہی پہنچے تھے کہ کمرے سے ہانیہ کی ایک زوردار چیخ سنائی دی۔ اماں کی طرف دوڑتے دوڑتے ہم دونوں واپس کمرے کی طرف پلٹے۔دروازہ شاید کھل چکا تھا۔جیسے ہی ہم کمرے میں داخل ہوئےمیرے ہاتھ پاوں پھول گئے۔ ہانیہ دیوانہ وار اپنا سر دیوار پر مار ے جارہی تھی۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی ان دیکھی طاقت اس کا سر پکڑ کر دیوار سے ضربیں لگا رہی ہے۔ ابا جیسے ہی اس کے نزدیک گئے ہانیہ کا ہاتھ فضا میں بلند ہوا۔ ابا کے سینے سے ٹکرایا۔اور ابا کئی فٹ پیچھے جا کھڑے ہوئے۔ اتنے میں دروازے کی بیل بجی۔ابا چلائے

"عائشہ دروازہ کھولو شاہ صاحب ہوں گے"

میں شاید ذندگی میں پہلی اور آخری مرتبہ اتنا تیز دوڑی تھی۔ جونہی دروازہ کھولا ولی شاہ سامنے کھڑے تھے۔مجھ سے ہمکلام ہوئے بغیر ہی گھر میں داخل ہوگئے۔ اماں کے سر سے ابھی بھی خون بہہ رہا تھا۔

"آپ آنٹی کو دوسرے کمرے میں لے جائیں اور ان کی مرہم پٹی کریں۔میں سنبھالتا ہوں یہ سب"

ولی شاہ نے مڑ کر مجھے کہا۔ میں روبوٹک انداز میں ان کے کہتے ہی اماں کی جانب دوڑی۔اماں ہانیہ کے پاس جانے کے لیے ضد کرنے لگیں تو ولی شاہ نے سختی سے انہیں مخاطب کیا

"دیکھیں اگر آپ اس طرح ضد کرتی رہیں تو میں ہانیہ کو نہیں بچا پاوں گا۔"

یہ سنتے ہی اماں جلدی سے اٹھیں اور میرے ساتھ چل دیں۔میں نے ایک لمحے کو مڑ کر دیکھا۔ولی شاہ کمرے میں داخل ہوچکے تھے۔

میں نے اماں کو بیڈ پر بٹھایا۔وہ روئے جا رہی تھیں۔ میرے پاس ان کی تسلی کے لیے الفاظ نہ تھے۔میں نے اپنا دوپٹہ پھاڑا اور اس کا ایک حصہ اماں کے زخم والے حصے پر باندھ دیا۔

"عائشے خدا کے لیے جااندر۔میری ہانی کی خبر لا"

اماں نے روتے ہوئے کہا۔میں خود بھی یہیں چاہ رہی تھی۔ فوراً اپنے کمرے کی جانب دوڑی۔"

میری نبض جیسے اب اس کی آواز کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ یہ کیا چیز تھی؟؟ یہ کیسی قوت تھی؟؟؟ وہ آواز جیسے میرے لیے گریویٹی بن گئی تھی۔جو مجھے اپنی طرف کھینچے جارہی تھی۔

"اندر کا ماحول ہی کچھ اور تھا۔ہانیہ اب ہانیہ نہ تھی۔اس کے چہرے پر بڑی بڑی دراڑیں پڑ چکی تھیں۔ منہ سے کوئی کالا مائع بہہ رہا تھا۔اس کا دودھیا چہرہ اب سیاہ ہوچکا تھا۔کنپٹیوں پر رگیں ایسے پھولی ہوئی تھیں جیسے ابھی پھٹیں۔ وہ ایک کونے پر دبکی بیٹھی تھی۔چہرے پر عجیب سی طنزیہ مسکان تھی۔اسے دیکھنا ہی اذیت تھی۔میں نے سختی سے اپنی آنکھیں بھینچ لیں۔ ولی شاہ کی مٹھی میں کچھ تھا۔جس پر وہ وقفے وقفے سےکچھ پڑھ کر پھونک مارتے جاتے۔ کچھ دیر بعد انہوں نے مٹھی کھولی۔ شاید کوئی سرمائی رنگ کا سفوف تھا۔ جو انہوں نے ہانیہ کی طرف اچھالا۔پورا گھر خوفناک چیخوں سے گونج اٹھا۔رونے،دھاڑنے،بین کرنے کی آوازیں۔جیسا ایک پورا خاندان مل کر ماتم زدہ ہو۔ میں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔ یہ سلسلہ چند منٹ چلتا رہا۔پھر ایک دم سناٹا چھا گیا۔ میں نے ہانیہ کی طرف دیکھا۔وہ اوندھے منہ فرش پر پڑی تھی۔دوڑ کر اس کے پاس گئی۔کانپتے ہاتھوں اس کا چہرہ سیدھا کیا۔۔۔۔"

مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ سب عائشہ کے ساتھ نہیں بلکہ میرے ساتھ ہوا ہو۔ میں اس کا غم اپنے اندر جزب ہوتا محسوس کرنے لگا تھا۔اسی لیے مجھے نکوٹین کی طلب ہوئی۔۔۔سیگریٹ کی۔۔۔۔ جو نجانے کتنے سالوں سے ایسے موقعوں پر میرا خوب ساتھ نبھاتی تھی۔بعض اوقات تو یہ سیگریٹ مجھے اپنی محبوبہ لگنے لگ جاتی۔میرے سیگریٹ سلگاتے ہی اس نے اپنی کہانی جاری رکھی

"وہ ہماری ہانیہ ہی تھی۔ مگر اس کے چہرے کی وہ سرخی پیلاہٹ میں بدل چکی تھی۔ اس کے ہونٹ جو مسلسل مسکراتے رہتے آج بھنچے ہوئے تھے۔اپنی معصوم بہن کو اس حالت میں دیکھ میری آنکھوں میں آنسوں آگئے۔

"یہ اب کل تک اسی حالت میں رہیں گی۔ آپ انہیں بیڈ پر لِٹا دیں۔ فکر نہ کریں باقی رات اب کچھ نہیں ہوگا"

اتنا کہہ کر ولی شاہ باہر چلے گئے۔میں نے ابا کی مدد سے ہانیہ کو بیڈ پر لٹایا۔اس کا جسم سرد پڑ چکا تھا۔اماں اب کمرے میں آچکی تھیں۔ ایک چادر اس کے اوپر جوڑ کر میں ابا کے ساتھ باہر چلی آئی۔اماں وہیں ہانیہ کے سرہانے بیٹھ کر تلاوت کرنے لگ گئیں۔ ان کے چہرے پر کمزوری کے آثار نمایاں تھے۔ولی شاہ باہر ٹہل رہے تھے۔

"امجد صاحب مجھے آپ دونوں سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔"

ابا مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔ پچھلے دو ایک گھنٹے میں جو مصیبت ہم پر گزری تھی ابا اس کے حصار سے باہر آچکے تھے۔۔۔۔یا شاید ایکٹنگ کر رہے تھے۔۔۔کیونکہ والد ہمیشہ مضبوط ہونے کی ایکٹنگ ہی تو کرتا ہے۔۔۔۔ 

"جی بولیں شاہ صاحب کیا بات ہے؟"

"امجد صاحب میری عادت ہے کہ میں بغیر کسی لگی لپٹی کے بات کرتا ہوں۔"

ولی شاہ نے بیٹھتے ہوئے کہا

"میں نے اس سے پہلے ایسی قوتوں کا کسی پر اتنا شدید اثر نہیں دیکھا۔عام طور پراتنی جلدی اس طرح کا اثر وہ مخلوق ہی رکھتی ہے جو ہمارے بس سے باہر ہو۔آپ کا یہ اپارٹمنٹ شاید کسی زمانے میں شیطانی سرگرمیوں کی آماجگاہ رہا ہے۔یہ سب انہی سرگرمیوں کی دین ہے۔"

ولی شاہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔

"آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ اس مخلوق سے نہیں لڑ سکتے؟"

ابا ولی شاہ کی بات سن کر پریشان ہوگئے۔

"میں کوشش تو کر سکتا ہوں مگر گارنٹی نہیں دے سکتا۔آپ کے پاس وقت بہت کم ہے۔ اس لیے آپ کی آخری امید میں ہی ہوں۔ باقی ماندہ رات اپنے کام پر لگ جاوں گا۔کل مغرب سے پہلے ہی واپس آجاوں گا۔اگر کل کی رات کسی طرح ہم نے کاٹ لی تو پھر خیر ہی خیر ہے۔آپ سب بس خدا کے سامنے سربسجود ہو کے میری کامیابی کی دعا کریں۔"

ولی شاہ اتنا کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔

"میں آپ کا تہہ دل سے مشکور ہوں شاہ صاحب"

ابا نے احسان مندانہ کہا۔

"یہ میرا کام ہے امجد صاحب۔ اپنا کام کر کے میں کسی پر احسان نہیں کر رہا۔آپ بس اپنی بچیوں کے لیے دعا کریں"

ولی شاہ یہ کہہ کر باہر چلے گئے۔میں نے اور ابا نے ان کی آخری بات پر شاید پوری طرح دھیان نہ دیا تھا۔وہ "بچیوں" کہہ کر گئے تھے۔مطلب خطرے میں صرف ہانیہ نہ تھی۔"

میں اس کی بات پر چونکا۔کیونکہ اب تک جو بھی واقعات بیان کیے گئے ان سے واضح تھا کہ اس مخلوق کا نشانہ ہانیہ ہی تھی۔

"اماں کو کسی طرح کچھ ادویات کھلا کر سلا دیا۔میں اور ابا رات بھر جاگتے رہے۔صبح ہوتے ہی ابا اماں کو ہسپتال لے گئے۔ہانیہ دوپہر تک ویسے ہی سوئی رہی۔جب اٹھی تو کافی ہلکان ہوچکی تھی۔ اپنے کہے مطابق ولی شاہ سرشام ہی پہنچ گئے۔ سب نے کسی طرح کھانا زہر مار کیا۔ پھر ولی شاہ نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا

"آج رات آپ سب ایک ہی کمرے میں رہیں گے جبکہ میں بچیوں کے کمرے میں رہوں گا۔کچھ بھی ہوجائے آپ میں سے کوئی بھی اس کمرے میں نہیں آئے گا۔"

ہم نے ان کی بات من وعن قبول کر لی۔ عشاء کی نماز پڑھتے ہی ولی شاہ ہمارے کمرے میں چلے گئے اور اندر سے کنڈی لگا دی۔ ہم لوگ ابا اماں کے کمرے میں بیٹھ گئے۔ایک گھمبیر سناٹا تھا۔سب اپنی اپنی جگہ پر خاموش بیٹھے دل ہی دل میں دعائیں مانگ رہے تھے۔ دو تین گھنٹے یونہی گزر گئے۔پھر ایک دم عجیب سا شور شرابہ شروع ہو گیا۔ دروازے اور کھڑکیاں اس طرح بجنے لگے جیسے کوئی بہت بڑا طوفان آگیا ہو۔ زمین لرزنا شروع ہوگئی۔ہم سب سہم کر ایک دوسرے کے قریب ہوتے گئے۔اماں زور زور سے کلمہٰ پڑھنے لگ گئیں۔ابا نے مجھے اور ہانیہ کو اپنے قریب کر لیا۔جیسے کوئی بچہ اپنا کھلونا چھن جانے کے ڈر سے اسے سینے سے لگائے پھرتا ہے۔ ہمارے کمرے سے عجیب و غریب آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ ایسا لگتا تھا کہ ہزاروں مرد و زن مل کر بین کر رہے ہوں۔ اور پھر۔۔۔۔"

وہ خاموش ہوگئی۔جیسے "اور پھر" سے آگے اس کی ہمت جواب دے گئی ہو۔میں نے بے چینی سے اپنا پہلو بدلا۔۔۔

"اور پھر ایک دم ہمارے کمرے کا دروازہ کھلنے کی ایک زور دار آواز آئی۔اس کے ساتھ ہی ولی شاہ کی چیخیں سنائی دیں۔ابا بھاگ کر دروازے تک پہنچے۔ نامعلوم انہوں نے کو نسا منظر دیکھا کہ سکتے کی حالت میں بت بن گئے۔ان کی حالت دیکھ میں جب وہاں پہنچی تو ایک لمحے کو میں بھی جیسے کومے میں چلی گئی۔ ہمارے سامنے دیوار کے ساتھ ولی شاہ پڑے تھے۔ان کا جسم رفتہ رفتہ دو ٹکڑے ہو رہا تھا۔ان کا چہرہ مسخ ہوچکا تھا۔ کچھ لمحوں میں ولی شاہ کی جگہ جسم کے دوٹکڑے پڑے تھے۔ابا نے بھاگ کر ہانیہ کو سینے سے لگایا۔میں نے اماں کو پکڑا۔ہم باہر کی طرف بھاگے۔ مگر جیسے ہمارے فرار کے تمام راستے بند ہوگئے۔اب وہاں دروازے نہیں ہر طرف دیواریں ہی دیواریں تھیں۔ہانیہ ابا کے ہاتھ سے نکلتی جارہی تھی۔اس کی فلک شگاف چیخیں ہم سب کا سینہ چھلنی کیے جارہی تھیں۔تب ہی مجھے ولی شاہ کی گزشتہ رات والی بات یاد آئی۔میں نے چِلا کر کہا

"میری بہن کو چھوڑ دو۔خدا کے لیے اسے چھوڑ دو۔تمہیں قربانی چاہیے نا؟؟؟؟؟ مجھے لے لو۔میں خود کو اپنی بہن کی جگہ پیش کرتی ہوں۔۔۔"

اتنا کہنا تھا کہ ہانیہ یک دم زمین پر گری۔وہ بے ہوش ہوچکی تھی شاید۔ تھوڑی دیر سناٹا رہا۔۔۔پھر۔۔۔ مجھے اپنا جسم ٹوٹتاہوا محسوس ہوا۔میں نے مڑ کر بے بسی سے ابا کو دیکھا۔ابا میری جانب دوڑے۔اس سے پہلے کہ وہ مجھ تک پہنچتے میں ہوا میں معلق ہوچکی تھی۔مجھے لگا جیسے میں اپنی دنیا سے نکل کر اندھیروں کی دنیا میں آچکی تھی۔مجھے اپنے ارد گرد ہزاروں ہاتھ نظر آنے لگے۔جیسے وہ مجھے نوچنا چاہتے ہوں۔ پھر میری نظراس عورت پر پڑی۔وہ اپنا مکروہ چہرہ لیے رفتہ رفتہ میری طرف بڑھ رہی تھی۔اس کے ہاتھ میں خنجر تھا۔میں جان چکی تھی کہ یہ میرا آخری وقت ہے۔میں ابا،اماں اور اپنی ہانی کو ایک بار دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔مگر جیسے میرے جسم کی حرکات وسکنات بند ہوچکی تھیں۔ آخری آواز جو میرے کانوں میں پڑی وہ ابا کی چیخ تھی۔۔۔ان کی ایک بیٹی تو بچ چکی تھی۔۔۔مگر دوسری ان شیطانی قوتوں کی بھینٹ چڑھ گئی۔۔۔میں اپنی قربانی دے کر اپنی ہانی کو بچانے میں کامیاب ہو گئی۔۔۔ میں امر ہوگئی۔۔۔۔"

وہ خاموش ہوچکی تھی۔پہلے کرداروں کی طرح وہ نہ تبدیل ہوئی نہ گری۔بلکہ میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ روشنی میں بدل گئی۔نور میں بدل گئی۔وہ نور میرے پورے گھر کو روشن کیے جا رہا تھا۔مجھے سمجھ آچکی تھی کہ میں کیوں اس کی طرف کھنچا جا رہا تھا۔میں سمجھ چکا تھا کہ وہ محض ایک انسانی وجود نہ تھی۔وہ انسانیت تھی۔وہ پیار اور قربانی کا مجسمہ تھی۔ اس دنیا کی وہ واحد اچھائی تھی جس کی بنا پر یہ دنیا قائم تھی۔۔۔میں اپنے آنسووں کی گرمائش اپنے چہرے پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔

جاری 

☆☆☆☆

خوف و دہشت پر مبنی داستان ✍

کتاب 📖:

قسط نمبر 8


وہ روشنی بن کر اس اندھیر نگری کو جگمگانے جا چکی تھی۔میرے حواس پر اپنی قربانی کی گہری چھاپ لگا گئی تھی۔میں مزید کوئی کہانی پڑھنے کے موڈ میں نہ تھا۔مگر پھر۔۔۔آج کی رات میں اپنے بس میں نہ تھا۔ میں کتاب کی گرفت میں تھا جو کہ میرے ہاتھ میں تھی۔نیا باب کھل چکا تھا۔۔۔ The Teacher۔۔۔ میں نے بے دلی سے کہانی شروع کی۔۔۔

"میرا نام شاہ زین ہے۔۔۔"

میں نے اب ارادتاً ہی سامنے دیکھا۔سفید شرٹ اور بلیک پینٹ میں ایک 30-32 سال کا خوش شکل بندہ بیٹھا تھا۔اس نے سرخ ٹائی لگا رکھی تھی۔داڑھی شیوڈ اور ہلکی ہلکی مونچھیں۔۔ بظاہر معزز اور پروفیشنل لگتا تھا۔۔۔

"میں ایک مشہور نجی ادارے میں ٹیچر تھا۔ میرے نام کا ڈنکا دور دور تک بجتا تھا۔ بائیولوجی کے حوالے سے میرا نام سٹوڈنٹس کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ میرے کولیگز مجھ پر رشک کرتے تھے۔"

میں یہ سب بے دلی سے سن رہا تھا۔

"اس رات بہترین رزلٹ کی خوشی میں ادارے میں اساتزہ کی ٹی پارٹی تھی۔گپ شپ میں کافی وقت گزر گیا۔تقریباً 8 بجے میں وہاں سے نکلا۔گھر کے راستے میں ایک سنسان گلی پڑتی تھی۔جیسے ہی میں وہ گلی مڑا۔یک دم میرے سامنے کوئی آگیا۔ میں ابھی سنبھلا نہ تھا کہ اس نے ایک رومال میرے منہ پر رکھا۔اس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہ رہا۔ نجانے کتنی دیر بعد میں ہوش میں آیا۔مجھے اپنے ہاتھ ایک کرسی سے بندھے محسوس ہوئے۔ میں نے جونہی ہاتھ ہلانے کی کوشش کی درد کی شدید لہریں میرے جسم میں سرایت کر گئیں۔ میں نے ہاتھوں کی طرف دیکھا تو میرے ہوش اڑ گئے۔ دونوں ہاتھ کرسی کے بازووں پر بڑے بڑے کیلوں کی مدد سے ٹھونکے ہوئے تھے۔مگر خون کا ایک قطرہ بھی نہ تھا۔جیسے کسی نے کمال مہارت سے یہ کام کرنے کے بعد میرے ہاتھ صاف کردیے ہوں۔ شدید درد کے باعث میں اب ہاتھ ہلانے سے قاصر تھا۔برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میں نے ارد گرد دیکھا۔یہ کوئی کمرہ تھا۔جو مختلف کاٹھ کباڑ سے بھرا پڑا تھا۔ کمرے کے درمیان میں ایک چھوٹا سا بلب لٹکا ہوا تھا۔جس کی روشنی کافی مدہم تھی۔ غور کرنے پر ایک کونے میں کوئی شخص بیٹھا دیکھائی دیا۔ یقیناً وہیں تھا جو مجھے یہاں تک لایا تھا۔مجھے ہوش میں آتا دیکھ وہ آہستہ آہستہ میری طرف بڑھنے لگا۔ قریب پہنچنے پر معلوم ہوا کہ اس نے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا۔"

قدرتی طور پر اب میں اس شخص کی طرف متوجہ ہونے لگا۔یا شاید اسے میری مکمل توجہ کا مرکز بنایا جا رہا تھا۔

"میں سمجھا شاید یہ کوئی اغوا برائے تاوان کا معاملہ ہے۔ مگر پھر اس نے میرے ہاتھوں کا یہ حال کیوں کیا؟؟؟ کہیں کوئی ذاتی رنجش؟؟؟نہیں نہیں میری تو ہر ایک سے بنی ہوئی تھی۔مخالفت تو عام بات ہے مگر ایسا تو کوئی دشمنی میں ہی کرتا ہے۔تو پھر وہ کون تھا؟؟؟؟ اس سوال کا جواب وہ خود ہی دے سکتا تھا۔ 

"کون ہو تم؟؟؟؟؟ کیا چاہتے ہو مجھ سے؟؟؟؟"

ماسک سے محض اس کی سرخ آنکھیں ہی دیکھائی دے رہی تھیں۔جو مجھ پر گڑی ہوئی تھیں۔میرے سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ وہ چپ چاپ کھڑا مجھے دیکھتا رہا۔

اس کا انداز بہت عجیب اور خوفناک تھا۔ میری بے بسی کہ میں خود کو آزاد کروانے کی کوشش سے بھی قاصر تھا۔ وہ مسلسل مجھے گھورے جارہا تھا۔اس کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے میں نے نگاہیں نیچی کر لیں۔اس نے اپنا ہاتھ میری ٹھوڑی پر رکھ کر میرا چہرہ اوپر اٹھایا۔دائیں بائیں موڑ کر دیکھا۔ جیسے اس کے لیے میں کوئی قربانی کا بکرا تھا۔

"تم بائیولوجی پڑھاتے ہو۔سنا ہے یگانہ روزگار ہو۔ یہ بتاو جسم کے کس حصے پر گولی لگنے سے درد بے انتہا ہوتا ہے؟؟"

اس کی آواز خاصی مردانہ تھی۔سوال عجیب تھا۔میں نے چونک کر اسے دیکھا۔ 

"اچھا چھوڑو یہ بتاو جب گھٹنے پر خاص کر قریب سے گولی لگتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟؟؟"

ایک اور سوال۔۔۔مگر نجانے کیوں میں اسے جواب دینے سے گھبرا رہا تھا۔جب میں کچھ نہ بولا تو وہ خود گویا ہوا

"چلو میں بتاتا ہوکہ گھٹنے پر جب ایک خاص نشانے سے گولی لگتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔ گھٹنہ کارٹیلیج،لگامنٹ،مسلز اور نروز پر مشتمل انتہائی نازک نظام ہوتا ہے۔وہ گولی ارد گرد کے تمام ٹشوز کو چیرتی ہوئی گہرائی تک چلی جاتی ہے۔ اندرونی ساخت چورا بن جاتی ہے۔شروع میں ایک دھچکا محسوس ہوتا ہے۔پھر ایسے لگتا ہے جیسے پوری ٹانگ میں آگ لگ گئی ہو۔ کچھ ہی دیر بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر ذرا سی بھی ٹانگ ہلائی تو ٹوٹ کر جسم سے الگ ہو جائیگی۔پھر وہ ٹانگ شل پڑ جاتی ہے جیسے کبھی موجود ہی نہ تھی۔ ہاں مگرعموماً انسان مرتا نہیں ہے۔ بس ٹانگ کاٹنی پڑ جاتی ہے۔"

وہ یہ سب کیوں بتا رہا تھا؟؟؟ کیا وہ مجھے ذہنی تشدد کا شکار بنانا چاہتا تھا؟؟؟ اگر ایسا تھا تو وہ کامیاب ہوچکا تھا۔ 

تب ہی میری نظر اس کے بائیں ہاتھ پر پڑی۔جس میں ایک چھوٹا سا پسٹل تھا۔میرا حلق خشک ہوگیا۔اس نے وہ پسٹل میرے بائیں گھٹنے پر پھیرنا شروع کردیا۔۔۔

"جانتے ہو ٹیچر۔۔۔ میں تمہیں اسی درد کا احساس دلانے جا رہا ہوں۔ اچھا ہے۔تمہارا تجربہ ہو جائے گا۔ویسے بھی تمہیں نت نئے تجربے کرنے کا شوق ہے نا"

میں نے اپنی ٹانگ پیچھے کھینچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔۔۔

"ہو کون تم؟؟؟؟؟؟؟ میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا؟؟؟"

اس نے میرے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا

"ششششششش۔۔۔۔"

اور پھر ۔۔۔"ٹھا"۔۔۔ایک زوردار آواز کمرے میں گونجی۔ مجھے شدید دھچکا لگا۔پھر ایسے لگا جیسے ٹانگ کے اندر ہی کسی نے پگھلا ہوا فولاد ڈال دیا ہو۔رفتہ رفتہ جلن کا یہ احساس ایک ناقابل بیان درد میں بدلنے لگا۔سب ویسا ہی ہو رہا تھا جیسا اس نے بولا تھا"

میں نے فوراً اس کی ٹانگ پر نظر دوڑائی۔خون کے فوارے بہہ رہے تھے۔اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔یہ سارا بیان سن کر ویسے ہی خود میرے جسم میں ایک سرد لہر اٹھ چکی تھی۔ 

"میں جتنی شدت سے چلا سکتا تھا چلایا۔وہ درد مجھ سے ہرگز برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ وہ آرام سے کھڑا مجھے دیکھتا جارہا تھا۔جیسے میری دردناک چیخیں اس کے لیے باعثِ اطمینان ہو۔ 

"کککککک۔۔۔کون ہو تممم؟؟؟؟؟؟؟ ککک۔۔کیا۔۔۔کیا۔۔۔بگاڑا۔۔۔"

مجھ سے مزید نہیں بولا جارہا تھا۔

"اتنی جلدی کیوں ہے ٹیچر؟؟؟؟ تعارف کو آخر پہ چھوڑ دو۔ابھی تم اس درد سے لطف اندوز ہو لو۔ تب تک کچھ باتیں کرلیتے ہیں۔"

یہ کیسا انسان تھا؟؟؟ انسان تھا یا درندہ؟؟؟؟ 

"ٹیچر۔۔۔یہ بتاو کافی خوش شکل ہو تم۔ذہین ہو۔ ہر جگہ تمہارے ڈنکے بجتے ہیں۔کبھی ان سب باتوں کا فائدہ اٹھایا ہے؟؟؟ سمجھ رہے ہو نا میرا مطلب؟؟؟؟"

میں اس کی بات پر چونکا۔۔۔۔کیا مطلب؟؟؟ کیسا فائدہ؟؟؟؟ وہ کیا کہہ رہا تھا؟؟؟

"اچھا چھوڑو۔۔۔یہ بتاو ایک استاد کا اپنے شاگرد کے ساتھ تعلق کیسا ہوتا ہے؟؟؟ روحانی باپ کا نا؟؟؟"

وہ شخص مجھے ذہنی مریض لگنے لگا۔یہ کوئی ذاتی رنجش یا دشمنی نہ تھی۔وہ اذیت پسند ذہنی مریض تھا۔ اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک چھوٹا پیچکس نکال لیا۔

"ٹیچر تم میری کسی بات کا جواب نہیں دے رہے۔کتنی بری بات ہے۔مجھے تمہیں سزا دینی ہوگی"

اتنا کہتے ہی اس نے وہ ہاتھ بلند کیا۔۔۔پیچکس میرے گھٹنے سے اوپر مسلز میں سوراخ کرتے ہوئے نیچے تک چلا گیا۔میں جو پہلے ہی حواس باختہ ہوچکا تھا اس بار دیوانہ وار چیخنا شروع کر دیا۔اس نے وہ پیچکس نکالتے ہوئے کہا

"اب بولو ٹیچر ۔۔۔روحانی باپ نا؟؟؟"

میں نے کراہتے ہوئے فوراً اپنا سر اثبات میں ہلایا۔

"شاباش۔۔۔۔اب یہ بتاو۔۔۔کیا تم نے اس رشتے کا پاس رکھا؟"

میں متذبذب تھا۔آخر وہ کیا کہلوانا چاہتا تھا مجھ سے۔۔۔ میں نے پھر اثبات میں سر ہلایا۔ اس کا ہاتھ ایک بار پھر فضاء میں بلند ہوا۔اسی سوراخ کے ساتھ ایک اور سوراخ۔۔۔ایک اور دردناک چیخ۔۔۔ 

"جھوٹ۔۔۔۔۔جھوٹ۔۔۔۔جھوٹ نہیں ٹیچر۔۔۔جھوٹ نہیں۔۔۔" 

اس نے چیختے ہوئے کہا۔۔۔۔"

گھٹنے سے اوپر اس کی ٹانگ پر پینٹ میں دو سوراخ ہوچکے تھے۔خون ان حصوں سے ایسے نکل رہا تھا جیسے پائپ سے پانی نکلتا ہے۔ 

"میں نے بے بسی سے اسے دیکھا۔تبھی اس نے اپنی دوسری جیب سے ایک تصویر نکالی۔اور میری آنکھوں کے نہایت نزدیک لا کر زور سے چلایا

"پہچانتے ہو اسے ٹیچر؟؟؟؟؟؟؟؟ پہچانو اسے تم۔یا میں پہچان کرواوں؟؟؟؟؟؟"

شروع میں مجھے وہ تصویر دھندلی دیکھائی دی۔۔۔پھر آہستہ آہستہ جیسے ہی منظر صاف ہوا۔۔۔۔ مجھے جیسے 220 وولٹ کا دھچکا لگا۔مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ 

"یییی۔۔۔یہ؟؟؟؟؟ "

میری آنکھیں فرط حیرت سے پھیل گئیں۔

"ہاں۔۔۔یہ۔۔۔پہچانو اس معصوم ہنستے مسکراتے چہرے کو۔یہ علینہ ہے۔میری بہن۔۔۔"

وہ واقعی علینہ تھی۔آج سے دو سال پہلے میری سٹوڈنٹ رہ چکی تھی۔مگر یہ شخص علینہ کا بھائی؟؟؟؟ میرے گلے میں کانٹے چھبنے لگے۔۔۔اب مجھے ساری بات سمجھ آنے لگی تھی۔۔۔"

جاری ہے۔۔۔

☆☆☆☆☆۔

خوف و دہشت پر مبنی داستان۔قسط نمبر 6

 خوف و دہشت پر مبنی داستان ✍

کتاب 📖:

قسط نمبر 6


اب یہاں سے پڑھیے☆☆☆☆☆


پہلے کرداروں کی طرح اس نے بھی میری بات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔نجانے کیوں مجھے سخت مایوسی ہوئی۔ میں اسے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا تھا۔میں اس سے ہمکلام ہونا چاہتا تھا۔میں چاہتا تھا کہ اسے بھی میرے "ہونے" کا ادراک ہو۔ مگر میرے چاہنے سے کوئی فرق نہ پڑتا تھا۔۔۔۔!!!

"میں لائٹ کا سوئچ آن کر کے جیسے ہی مڑی وہاں پر کوئی نہ تھا۔خوف سے میری ٹانگیں اور ہاتھ کانپ رہے تھے۔میں وہیں سے الٹے قدموں مڑی اور گرتے پڑتے اماں کے کمرے تک پہنچی۔ میں نے دیوانہ وار کمرے کا دروازہ بجانا شروع کر دیا۔تھوڑی ہی دیر میں اماں اور ہانیہ حیران پریشان دروازے پر موجود تھیں۔۔۔

"کیا ہوا ہے عائشے؟؟؟ میری جان کیوں اتنی گھبرائی ہو؟؟؟؟"

اماں کے لہجے میں اضطراب تھا۔مگر میں اس وقت کچھ بھی کہنے سننے کی حالت میں نہ تھی۔ ہانیہ نے مجھے شانوں سے پکڑا اور بیڈ تک لے گئی۔ 

"آپی تم بیٹھو یہاں۔میں پانی لاتی ہوں۔"

اس نے نرمی سے کہا۔ میں بس نیچے منہ کیے ہانپتی کانپتی جارہی تھی۔ اماں نے میرا سر پکڑا اور اپنی گود میں رکھ لیا۔

"کیا ہوا میری بیٹی کو؟؟ کوئی ڈراونا خواب دیکھ لیا ہے کیا؟؟؟"

اماں کی گود میں آ کر میرا کچھ حوصلہ بحال ہوا۔اتنے میں ہانیہ پانی لے آئی۔پانی پی کر کچھ حواس بحال ہوئے۔۔۔

"اب بتاو کیا ہوا ہے؟ میری بہادر بچی اتنی کیوں ڈری ہوئی ہے؟؟"

اماں نے میرے سر پر اپنا نرم ساہاتھ پھیرا۔ میں نے ایک نظر اماں اور دوسری ہانیہ پر ڈالی۔پھر من وعن انہیں تمام واقعات بتا دیے۔ میری بات سن کر اماں کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوگئے۔ہانیہ نے ڈرتے ہوئے مجھے دیکھا۔ جیسے وہ کچھ بولنا چاہتی ہو۔ پھر کچھ لمحے سوچنے کے بعد گویا ہوئی۔۔۔

" کل آدھی رات پیاس کی وجہ سے میری آنکھ کھلی۔میں پانی لینے کچن میں پہنچی۔ وہاں میں نے کرسی پر آپی کو بیٹھے دیکھا۔ وہ انتہائی غصے میں مجھے گھورے جارہی تھیں۔ میں نے جب پوچھا کہ کیا ہوا تو ایک دم سے کرسی سے کھڑی ہوئیں اور میرے سامنے آگئیں۔ میں کافی سہم گئی۔آپی کی آنکھیں لال ہورہی تھیں۔انہوں نے سختی سے مجھے شانوں سے پکڑا۔اور کہا کہ ہم تمہیں لینے آئے ہیں۔ اس وقت مجھے یقین تھا کہ یہ آپی کی آواز نہیں ہوسکتی۔اتنا کہتے ہی آپی فوراً کچن سے نکل گئیں۔ جب میں بھاگ کر واپس کمرے میں پہنچی تو آپی سکون سے وہاں سوئی پڑی تھیں۔ میں یہ سوچ کر کہ شاید آپی نیند میں چل رہی ہو چپ ہوگئی"

ہانیہ کا اتنا کہنا تھا کہ میں اور اماں حیرانگی سے اسے دیکھنے لگے۔کیونکہ میں تو ذندگی میں کبھی نیند میں چلی ہی نہ تھی۔ پھر اماں نے ہم دونوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا

"اچھا تم دونوں ڈرو نہیں۔میں صبح جیسے ہی تمہارے ابا آتے ہیں ان سے بات کرتی ہوں۔ ابھی تم دونوں میرے پاس سو جاو"

میں اور ہانیہ وہیں اماں کے پاس سو گئے۔صبح ہانیہ کالج چلی گئی۔ابا آتے ہی سو گئے تھے۔میں اور اماں ان کے جاگنے کا انتظار کرنے لگے۔جیسے ہی ابا جاگے انہیں ناشتہ دیا۔ ناشتے کے دوران ہی ابا نے میری اور اماں کی پریشانی بھا نپ لی۔۔

"کیا ہوا آج دونوں ماں بیٹی پریشان کیوں ہیں؟"

ابا کے یہ کہتے ہی اماں نے میرے اور ہانیہ کے ساتھ ہونے والے تمام واقعات بیان کردیے۔ ابا نے ساری بات غور سے سنی اور گویا ہوئے۔۔۔

"اچھا تو یہ بات ہے۔ چلو تم لوگ پریشان نہ ہو۔ میں کچھ کرتا ہوں۔"

ناشتہ کرنے کے بعد ابا باہر چلے گئے۔"

وہ بولتے بولتے رک گئی۔ "بولتی رہو۔۔۔تم چپ ہوتی ہو تو دنیا بھر کی مصیبتیں یاد آجاتی ہیں۔تم بولتی رہو" میں اسے کہنا چاہتا تھا۔مگر چپ رہا۔اس کا وہ نرم اور شیریں لہجہ مجھے پاگل کیے جا رہا تھا۔وہ جب بولتی مجھے لگتا جیسے آبشار بہہ رہی ہو۔جیسے اس آبشار کے ساتھ بیٹھے سازندے ساز چھیڑ رہے ہوں۔جیسے انہیں سازوں کے بیچ کوئل کو کو کر رہی ہو۔اس کی آواز مجھے کالا جادو لگنے لگی۔جو تیزی سے مجھے اپنے گھمبیر سایوں میں لپیٹ رہا ہو۔میں نے مضطرب پہلو بدلا اور اس کی طرف دیکھا۔ وہ موم کا مجسمہ مجھے دیکھے جارہی تھی۔مگر ان آنکھوں میں کوئی تاثر نہ تھا۔

"دوپہر کو ابا واپس آئے تو ان کے ساتھ کوئی اور بھی تھا۔شکل سے وہ 30 سے زیادہ کا نہ تھا۔اماں اور میں نے سوالیہ نظروں سے ابا کی طرف دیکھا تو وہ بولے

"یہ ولی شاہ ہیں۔ایک دوست نے میری ملاقات ان سے کروائی۔شاہ صاحب کافی علم و عمل والے بندے ہیں۔انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ یہ معاملہ حل کردیں گے"

میں نے اور اماں نے حیران ہوکر اوپر سے نیچے ولی شاہ کو دیکھا۔وہ کسی بھی زاویے سے کوئی پیر یا بزرگ نہ لگتے تھے۔ چہرے پر انتہائی ہلکی سی برائے نام داڑھی۔ بلیک ٹی۔شرٹ اور جینز میں ملبوس وہ تو کسی یونیورسٹی کے طالبعلم ہی لگتے تھے۔ اسی حیرت میں میں یااماں انہیں بیٹھنے کے لیے بھی نہ کہہ پائے۔

"میں آپ کی پریشانی سمجھ گیا ہوں۔مگر آپ میرے حلیے پر نہ جائیں۔میں کوئی روایتی پیر یا بزرگ نہیں ہوں۔"

ولی شاہ نے ہماری پریشانی بھانپتے ہوئے کہا۔پھر اچانک اماں کو انہیں بیٹھانے کا خیال آیا۔ چائے وغیرہ پینے کے بعد انہوں نے سارے گھر کا چکر لگانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ابا ساتھ جانے لگے تو انہوں نے ابا کو روک دیا۔

"میں اکیلا جاوں گا۔"

یہ کہہ کر انہوں نے ہم سب کو باہر انتظار کرنے کا کہا اور خود اندر چل دیے۔کچھ دیر بعد وہ واپس آئے۔انہوں نے ہم سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور گویا ہوئے

"عام طور پر میرے پاس جب بھی ایسا کوئی معاملہ آتا ہے تو میں سب سے پہلے متعلقہ شخص کی سائیکی چیک کرتا ہوں۔مگر آپ لوگوں کے معاملے میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔پہلی بات تو یہ کہ آپ سب باشعور اور پڑھے لکھے ہیں۔اور دوسرا میں نے جیسے ہی آپ کی دہلیز پر قدم رکھا مجھے محسوس ہوا جیسے مجھے دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ ایک قسم کی نیگیٹو انرجی تھی۔باتوں کے دوران کئی بار محسوس ہوا کہ عائشہ کے ساتھ کوئی دوسری مخلوق بھی موجود ہے۔ لیکن جب میں اندر داخل ہوا تو ساری بات مجھ پر واضح ہوگئی۔"

ولی شاہ تھوڑی دیر کو خاموش ہوگئے جیسے وہ بولنے کے لیے الفاظ کے تانے بانے بن رہے ہوں۔ پھر انہوں نے ہم تینوں کی طرف دیکھا اور محتاط انداز میں بولےولی شاہ تھوڑی دیر کو خاموش ہوگئے جیسے وہ بولنے کے لیے الفاظ کے تانے بانے بن رہے ہوں۔ پھر انہوں نے ہم تینوں کی طرف دیکھا اور محتاط انداز میں بولے

"مجھے خدا نے یہ صلاحیت دی ہے کہ میں پوشیدہ چیزوں کو بھی دیکھ سکتا ہوں۔لیکن ایسا صرف اس جگہ پر ہوسکتا ہے جہاں ایسی مخلوق وافر مقدار میں ہو۔اور بہت شدت کے ساتھ ہو۔ میں جیسے ہی عائشہ اور ہانیہ کے کمرے میں داخل ہوا وہاں میں نے کچھ عجیب سے مناظر دیکھے۔ انکے بیڈ پر ایک کفن پوش عورت بیٹھی تھی۔ بیڈ کے ارد گرد تین چار بچے بیٹھے تھے۔ان کی آنکھوں کی جگی پر کالے گڑھے اور چہرے پر کہیں کہیں دراڑیں پڑی ہوئی تھیں۔ ان سب کے چہرے مجھ پر تھے۔میں وہاں سے نکل کر آپ لوگوں کے کمرے میں گیا۔ وہاں وہی عورت بیڈ کے سرہانے کھڑی تھی۔بیڈ پر ہانیہ سوئی تھی۔وہ عورت رفتہ رفتہ ہانیہ کے اوپر جھکتی جارہی تھی۔مگر مجھے دیکھتے ہی وہ سیدھی ہوئی اور مجھ پر غرائی۔میں فوراً باہر نکل آیا"

ولی شاہ چپ ہوچکے تھے۔ ہم تینوں حیران پریشان ایک دوسرے کو تکے جارہے تھے۔کیونکہ ہانیہ تو ابھی کالج سے لوٹی ہی نہ تھی۔"

وہ ایک بار پھر چپ ہوگئی۔ میں نے سگریٹ کا پیک اٹھایا اور ایک سگریٹ نکال کر سلگا لی۔ دھوئیں کے بیچ سے اس کا چہرہ مزید جازب نظر ہورہا تھا۔میرے لیے اس کے حصار سے نکلنے کے تمام راستے بند ہوتے جارہے تھے۔۔

"اب میں جو کہنے جا رہا ہوں اس بات کو حوصلے اور تسلی سے سنیے۔ یہ مخلوق انتہائی طاقتور ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ کتنے عرصے سے یہاں رہ رہی ہے۔مگر اب یہ ہانیہ کو اپنی دنیا میں لے جانا چاہتی ہے۔ابھی میں یہ نہیں جان سکا کہ عائشہ کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے۔لیکن آپ سب کو محتاط رہنا ہوگا۔ یہ مخلوق تیزی سے ہانیہ پر اثر انداز ہورہی ہے۔ ابھی آپ نے ہانیہ سے بھی کچھ نہیں کہنا۔آج رات کسی طرح آپ لوگ گزار لیں۔ میں کل صبح کوئی نہ کوئی حل تلاش کر آجاوں۔"

ولی شاہ تو یہ کہہ کر چلے گئے لیکن ہمیں شدید پریشانی اور الجھن میں ڈال گئے۔ میں ان کی بات کا ہرگز یقین نہ کرتی اگر یہ سب خود میں نے اپنی آنکھوں نہ دیکھا ہوتا۔ان کے بتائی گئیں کچھ آیات وغیرہ پڑھ کر ہم نے کمروں کے گرد حصار کھینچا۔ہانیہ ان کے جاتے ہی کالج سے واپس آچکی تھی۔اسے ہم نے سرسری سا بتایا کہ کوئی چھوٹا موٹا سایہ ہے مگر گھبرانے کی بات نہیں۔ابا نے آج چھٹی لے لی تھی۔انہوں نے ہم دونوں بہنوں کو اپنے اپنے بستر انہی کے کمرے میں لگانے کا کہا۔

رات کے کسی پہر ہانیہ کی خوفناک چیخوں سے ہم سب کی آنکھ کھل گئی۔میں نے اٹھتے ہی اپنے ساتھ دیکھا تو ہانیہ وہاں موجود نہ تھی۔اماں ابا بدحواس اوپر دیکھی جا رہے تھے۔میں نے انکی نظروں کا تعاقب کیا تو میرے ہوش اڑ گئے۔ہانیہ کا جسم ہوا میں معلق تھا۔ اس کے بازو اور ٹانگیں پھیلی ہوئی تھیں۔اماں زور زور سے کلمہٰ پڑھنے لگ گئیں اور ابا ولی شاہ کی بتائی گئی آیات کا ورد کرنے لگے۔ کچھ ہی دیر بعد ہانیہ کا جسم دھڑام سے اپنی جگہ پر گرا۔مگر اس سے پہلے کہ ہم سمبھلتے پلک جھپکتے ہی کسی ان دیکھی طاقت نے اسے ٹانگ سے پکڑ کر کمرے سے باہر گھسیٹنا شروع کردیا۔ ہم تینوں دیوانہ وار اس کے پیچھے بھاگے۔ہانیہ کی دردناک چیخیں مجھے پاگل کیے جارہی تھیں۔وہ چلا رہی تھی۔۔۔"ابا مجھے بچا لو۔۔۔اماں۔۔۔آپی۔۔۔۔"

اماں اب باقاعدہ رو رہی تھیں۔ وہ مخلوق ہانیہ کوہمارے کمرے میں لے گئی۔اس سے پہلے کہ ہم اندر جاتے دروازہ خود بخود بند ہوگیا۔۔اندر سے مسلسل ہانیہ کے چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ابا نے پہلے تو دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر جب ناکام ہوئے تو دوڑ کر اپنا موبائل لے آئے اور کسی کا نمبر ملانے لگے۔ میں زور سے دروازہ بجانے لگی۔۔۔۔

"خدا کے لیے چھوڑ دو میری بہن کو۔ مجھے لے لو۔۔۔مگر میری بہن کو چھوڑ دو۔۔۔۔"

میرا اتنا کہنا تھا کہ ایک دم سناٹا چھا گیا۔ ہانیہ کے چلانے کی آواز بھی بند ہوگئی۔"

اس کی آخری بات سن کر میں سکتے میں آگیا۔ کہیں۔۔۔۔؟؟؟؟ میں اس "کہیں" سے آگے سوچنے کی ہمت نہ رکھتا تھا۔ 

جاری ہے۔۔۔

خوف و دہشت پر مبنی داستان- قسط نمبر 5

 خوف و دہشت پر مبنی داستان ✍

کتاب 📖:

قسط نمبر 5


اب یہاں سے پڑھیے☆☆☆☆☆

( پہلی مرتبہ اس قسط میں کچھ ایسے مناظر ردو بدل کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں جو چند لوگوں کے ساتھ حقیقی ذندگی میں پیش آچکے ہیں)


پہلی دو کہانیوں کی طرح اس بار بھی میرے کانوں میں آواز پڑی۔میں نے فوراً گردن اٹھا کر دیکھا۔میرے سامنے ایک بار پھر ایک لڑکی بیٹھی تھی۔ لمبا سا قد اور گوری چٹی۔

"میرا نام عائشہ ہے۔۔۔۔ ابا جی کا تبادلہ شہر سے دور ایک قصبے میں ہوا تھا۔ابا جی کو اس قصبے میں رہائش کے لیے ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ ملا تھا۔ دو کمروں، کچن اور ملحقہ واش رومز پر مشتمل یہ اپارٹمنٹ شایدچند سال پہلے ہی تعمیر کیا گیا۔ہمارا خاندان بھی اس اپارٹمنٹ کی طرح چھوٹا سا تھا۔ میں،میری چھوٹی بہن اور اماں، ابا۔ ہم سب بہت اچھی اور خوش و خرم ذندگی گزار رہے تھے۔ابا جی نے ہم بہنوں کو کبھی کوئی کمی نہ ہونے دی۔ میں اس وقت اپنی گریجویشن مکمل کرچکی تھی جبکہ ہانیہ ابھی فرسٹ ائیر میں تھی۔ خیر ہم سب ابا جی کے ساتھ اس اپارٹمنٹ میں منتقل ہو گئے۔ شروع کے چند دن آرام سے گزرے۔ہانیہ کا قصبے سے کچھ دور ایک نسبتاً اچھے کالج میں داخلہ کرادیا گیا۔میں ماسٹرز میں ایڈمیشن کے لیے کوشش میں لگ گئی۔ابا جی دن کو ڈیوٹی پہ چلے جاتے۔اماں گھر کے کاموں میں مشغول ہو جاتیں۔ اس طرح ہم رفتہ رفتہ اس نئے ماحول میں ایڈجسٹ ہونے لگے۔چند دن میں ہمسائیوں کے ہاں بھی آنا جانا لگ گیا۔اسی وقت ہمیں ایک ہمسائی نے خبردار کیا کہ یہ اپارٹمنٹ انتہائی پراسرار ہے۔جو بھی یہاں آتا ٹِک کر نہ رہ سکتا۔ مگر ہمیں ان باتوں پہ زیادہ یقین نہ تھااسلیے ہنس کر ٹال گئے۔"

اس کی آواز میں ایک جادو تھا۔وہ بہت اطمینان سے ٹہر ٹہر کر بات کر رہی تھی۔وہ کسی کو بھی اپنے اس لہجے کی بنیاد پر اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

"اس رات میں اپنے کمرے میں بیٹھی ناول پڑھ رہی تھی۔ہانیہ میرے ساتھ ہی سوئی ہوئی تھی۔ رات کے تقریباً 12بج چکے تھے۔میری عادت تھی کہ 12 تک بیٹھ کر مطالعہ کرتی اور پھر سوجاتی۔اپنی روٹین کے مطابق میں نے ناول سائیڈ پر رکھا اور بتی بجھانے کے لیے اٹھی۔ جونہی میں لائٹ آف کر کے مڑی میرے سامنے انتہائی خوفناک منظر تھا۔ میں نے دیکھا کہ میری جگہ پر سفید لباس میں ملبوس کوئی عورت ہانیہ کو دیکھے جارہی تھی۔اس کا قد لمبا، بال انتہائی باریک اور چہرہ ایسے تھا جیسے ہڈیوں کے اوپر مصنوعی جِلد لگا دی گئی ہو۔میں خوف کے مارے زور سے چِلائی اور واپس سوئچ کی جانب مڑی۔ جیسے ہی لائٹ دوبارہ آن کی اور مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی موجود نہ تھا۔میں نے لائٹ یونہی جلی رہنے دی اور ڈرتے ڈرتے اپنی جگہ پر لیٹ گئی۔شکر کہ ابا یا اماں نے میری چیخ نہیں سنی۔ورنہ میں انہیں کیا بتاتی اور کیسے یقین دِلاتی۔ وہ رات میں نے جاگ کر گزاری۔"

وہ کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہوگئی۔میں اس کی آواز کے خمار میں تھا۔دِل چاہتا تھا کہ وہ بولتی رہے۔

"دوسرے دِن میں نے کسی سے اُس بات کا تذکرہ نہیں کیا۔دِن بھر میں کچھ خوفزدہ کچھ حیران رات والے واقعے بارے سوچتی رہی۔ شام ہوئی ابا واپس آگئے۔کھانا وغیرہ کھا کر کچھ دیر باتیں ہوئیں۔پھر ابا باہر چلے گئے۔اماں اور ہانیہ ڈرامہ دیکھنے لگ گئیں۔ میں کچن میں برتن وغیرہ سمیٹنے لگی۔ کام مکمل کرنے کے بعد میں ہاتھ دھو کر جونہی مڑی میرے اوسان خطا ہوگئے۔ وہیں عورت کچن کے دروازے پر کھڑی تھی۔پہلے کی طرح اُس نے ایک لمبا سا گاون نما سفید لباس پہن رکھا تھا۔اُس کے چہرے پر سوائے مردگی کے کوئی تاثر نہ تھا۔وہ اپنی خوفناک نگاہوں سے مجھے گھورے جا رہی تھی۔

"کککک۔۔کون ہیں۔۔آآآ۔۔آپ؟؟؟؟"

میں چِلائی۔

"کیا ہوا عائشے؟؟؟؟"

شاید اِس بار اماں تک میری آواز پہنچ چکی تھی۔ جونہی اماں نے آواز لگائی وہ عورت پہلے کی طرح غیب ہوگئی۔میں نے تھوڑی دیر اپنے خوف پر قابو پایا اور پھر کہا

"کچھ نہیں اماں۔۔۔چچ۔۔چوہا تھا چوہا"

اُدھر سے امی اور ہانیہ کے مشترکہ قہقہوں کی آواز آئی۔مگر میری توجہ ان قہقہوں پر نہیں بلکہ اس تیسری آواز پر تھی جوان کے قہقہوں کے ساتھ گونج رہی تھی۔ جیسے کوئی زور زور سے رو رہاہو۔ میں فوراً امی اور ہانیہ کی طرف کی دوڑی۔مجھے یوں ہانپتا کانپتا دیکھ ہانیہ ایک بار پھر ہنسی

"کیا آپی اتنی بڑی ہوکر اتنے چھوٹے چوہے سے ڈر گئی ہو"

میں نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا اور اماں کے ساتھ دُبک کر بیٹھ گئی۔انہوں نے پیار سے میری گال تھپتھپائی اور پھر ڈرامے میں مشغول ہوگئیں۔ میرا دِل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔"

نجانے کیوں اسکے ہر جملے کے ساتھ میری اس کی طرف کشش بڑھتی جاتی تھی۔میں نے اپنی توجہ بٹانے کے لیے سگریٹ سلگالی۔

"اس رات میں دیر تک جاگتی رہی۔ مگر کچھ نہ ہوا۔ صبح ہوئی اور سب اپنی روٹین پر لگ گئے۔ شام تک میں اسی تذبذب میں رہی کہ اماں کو بتاوں یا نا۔ بلآخر میں نے فیصلہ کیا کہ اگر آج رات پھر کوئی ایسا واقع پیش آتا ہے تو صبح ہوتے ہی میں اماں کو بتا دوں گی۔ابا جی کی اس رات نائٹ ڈیوٹی تھی۔کھانا کھا کر ہانیہ ٹی۔وی دیکھتے دیکھتے اُدھر ہی اماں کے ساتھ سو گئی۔ جس رات ابا ڈیوٹی پہ ہوتے ہانیہ ایسا ہی کرتی ۔ مطلب اُس رات مجھے اکیلے سونا تھا۔ذندگی میں پہلی بار مجھے اکیلے سونے سے اس قدر خوف آرہا تھا۔مگر سونا تو اکیلے ہی تھا۔رات 12 بجے تک معمول کے مطابق میں ناول پڑھتی رہی مگر میراذہن منتشر رہا۔میں خوفزدہ کسی خوفناک واقع کے انتظار میں تھی مگر کچھ نہ ہوا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے لائٹ آف کی اور فوراً لیٹ کر اپنے اوپر چادر لے لی۔جیسے کسی خطرے کی صورت میں وہ چادر ہی میرا واحد سہارہ تھی۔مختلف آیات کا ورد کرتے کرتے مجھے نیند نے آن لیا۔نجانے وہ کون سا پہر تھا جب کسی پائل کی چھنن چھنن سے میری آنکھ کھل گئی۔مجھے ایسے لگا جیسے کوئی پائل پہنے میرے بیڈ کے گرد چکر لگا رہا ہو۔ رفتہ رفتہ پائل کی آواز بڑھنے لگی۔پھر اس کے ساتھ ہی خوفناک قہقہوں کی آواز بھی میرے کانوں میں گونجنے لگی۔ میں نے چادر کو سختی سے اپنے اوپر لے لیا۔خوف کی وجہ سے میرے پسینے چھوٹنے لگے۔ میں چلانا چاہتی تھی مگر ڈر کی وجہ سے میری آواز بیٹھ گئی۔ یہ معاملہ کئی منٹوں تک چلتا رہا۔تب اچانک پائل اور ہنسنے کی آواز رک گئی۔ کچھ دیر تک ایک گھمبیر سناٹا چھایا رہا۔ پھر مجھے ایسے لگا جیسے پاوں کی طرف سے کوئی بیڈ پر بیٹھا ہو۔میں نے فوراً اپنے پاوں سمیٹ لیے۔اب کسی لڑکی کے رونے کی آواز آنے لگی۔پہلے پہل تو صرف سسکیاں تھیں۔مگرآہستہ آہستہ وہ سسکیاں باقائدہ رونے کی آواز میں ڈھل گئیں۔جیسے کوئی انتہائی کرب میں ہو۔رونے کی آواز اب بین میں تبدیل ہونے لگی۔ جیسےرونے والے کا کوئی مر گیا ہو۔۔۔۔ مارے خوف کے میری سانس اکھڑنے لگی۔میں آیت الکرسی پڑھنا چاہتی تھی۔مگر مجھے وہ یاد ہی نہ آرہی تھی۔۔۔"

وہ بولتے بولتے رک گئی۔ اس کی آواز میں بے چینی اور خوف تھا۔ میرا دل چاہا کہ اس سے بات کروں۔اس کی ڈھارس بندھاوں۔مگر جانتا تھا کہ یہ سب لاحاصل ہے۔کبھی کبھی انسان اپنے جزبات محض اس "لاحاصل" کے ڈر سے مار ڈالتا ہے۔میرےساتھ بھی ویسا ہی کچھ ہو رہا تھا۔میں سوائے اسے سننے کے کچھ نہ کرسکتا تھا۔اس لیے چپ چاپ مگر بے چین اس کی طرف متوجہ رہا۔

"میں نے اس خوفناک آواز سے بچنے کے لیے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔مگر وہ آواز بدستور کرچیوں کی طرح میری سماعتوں کو گھائل کیے جا رہی تھی۔جب کافی وقت تک یہ سلسلہ نہ رکا تو میں نے اپنی جگہ سے اٹھنے کا فیصلہ کیا۔ میرے لیے ایسا کرنا شاید ناممکن تھا۔مگر تب ہی مجھے ابا جی کی بات یاد آئی "میری عائشہ تو بہت ہی بہادر ہے"۔ اباجی ایسا تب کہتے جب میں کسی مشکل میں ہوتی۔ابا جی کی یہ بات یاد آتے ہی میری ہمت کچھ بحال ہوئی۔ میں نے فوراً اپنے بیڈ سے جست لگائی۔اور دوڑتے ہوئے بورڈ کی جانب بڑھی۔۔۔"

میرا اضطراب اس کی آواز کی لرزش کے ساتھ ساتھ بڑھنے لگا۔ کاش میں اس کے لیے کچھ کر سکتا۔۔۔ کاش میں اسے حوصلہ ہی دے پاتا۔بظاہر اِس لڑکی کی کہانی پچھلے دو کرداروں کی نسبت عام سی لگتی تھی۔ مگر اس کی آواز میں نرمی اور لہجے کی معصومیت مجھے اس کی طرف مسلسل مائل کیے جا رہی تھی۔ میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔مگر جزبات کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں بول پڑا

"پھر کیا ہوا؟؟؟"☆☆☆

جاری ہے۔

Thursday, May 12, 2022

خوف و دہشت پر مبنی داستان۔قسط نمبر 4

 خوف و دہشت پر مبنی داستان ✍

کتاب 📖:

قسط نمبر 4


اب یہاں سے پڑھیے☆☆☆☆☆


وہ چپ ہوگیا۔ میری بے چینی بڑھ گئی۔ اس کی نظریں بدستور مجھ پر جمی ہوئی تھیں۔ان خوفناک مردوں کی دہشت میں اس کی آنکھوں میں دیکھ سکتا تھا۔اس نے ایک بار پھر اپنی کہانی شروع کی۔۔۔

"خنجروں سمیت ان کے ہاتھ فضاء میں تھے۔دہشتناک نگاہیں مجھ پر جمی ہوئی تھیں۔

"رک جاو۔۔۔" گورکن نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا۔چاروں نے ایک ساتھ مڑ کر گورکن کی طرف دیکھا۔۔

"ابھی نہیں۔یوں کھیل میں کوئی مزا نہیں رہے گا۔" چاروں کے چہروں پر کوئی تاثر نہ ابھرا۔ 

"صاحب ہم تمہیں بھاگنے کا موقع دیں گے۔اگر تم قبرستان کی حدود پار کرگئے تو تمہاری ذندگی تمہاری ورنہ ہماری"

اس نے مجھ پر احسان کرتے ہوئے کہا۔ وہ چاروں اس کی بات سن کر ایک طرف ہوگئے۔

"بھاگو صاحب بھاگو۔اس سے پہلے کے میرے دوست قابو میں نہ رہیں بھاگ جاو"

گورکن نے مکاری سے ہنستے ہوئے کہا۔مجھے جان بچانے کا موقع مل رہا تھا۔ میں پلک جھپکنے میں اپنی جگہ سے اٹھا۔ تیر کی مانند جھونپڑے سے نکلا۔جدھر کو منہ تھا اسی سمت دوڑا۔ حیرت کی بات تھی کہ ان میں سے کوئی میرے پیچھے نہ بھاگا۔بارش رک چکی تھی۔مگر چہار طرف دلدل بنی ہوئی تھی۔میں گرتا پڑتا شاید قبرستان کے درمیان پہنچ چکا تھا۔"

اب کے وہ خود بھی ہانپ رہا تھا۔ایسے جیسے ابھی بھی وہ بھاگ رہا ہو۔

"اسی بھاگم بھاگ میں اچانک کسی چیز نے میرا پاوں جکڑ لیا۔میں نے جو نیچے مڑ کر دیکھا میرے اوسان خطا ہوگئے۔یہ لوہے کا گول شکنجہ تھا۔جس کے ہر طرف نوکیں نکلی ہوئی تھیں۔جیسے مجھے پھنسانے کے لیے پہلے ہی بچھایا گیا ہو۔ میں نیچے بیٹھ کر ہزیانی کفیت میں اپنے پاوں کو شکنجے کی جکڑ سے آزاد کرانے لگا۔درد کی شدت مجھے مزید پاگل کیے جارہی تھی۔مگر کچھ نہ ہوا۔ میں اپنی کوشش میں مصروف تھا کہ مجھے انتہائی بھیانک قہقہوں کی آواز سنائی دی۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا وہ چاروں چند فٹ کے فاصلے پر مجھے گھیرے ہوئے تھے۔ گورکن کچھ فاصلے پر ایک بلند قبر کے اوپر گھٹنوں کے بل بیٹھا دیوانہ وار ہنستا جارہا تھا۔ میری ہمت جواب دینے لگی۔موت رفتہ رفتہ میری طرف بڑھ رہی تھی۔ اچانک ان چاروں میں سے ایک نے میری طرف کچھ پھینکا۔ یہ ایک الیکٹریکل آری تھی۔جو اپنے دندانوں سے بالکل نئی معلوم ہوتی تھی۔ میں نے حیرت اور خوف کے ملے جلے اثرات سے گورکن کی طرف دیکھا۔

"صاحب۔۔۔ ایک بات تو پکی ہے کہ یہ شکنجہ تو اب ہم سے بھی نہ کھلے گا۔اس سے جان چھڑانے کے لیے تمہارا پاوں ہی کاٹنا پڑنا۔اب تمہارے پاس دو راستے ہیں۔اول یہ کہ ہم خود تمہارا پاوں کاٹیں اس صورت میں تمہاری ذندگی ہماری۔ دوئم آری تمہارے پاس پڑی ہے۔یہ کام تم خود کرو۔اس صورت میں تمہیں ایک بار پھر بھاگنے کا پورا پورا موقع دیا جائے گا"

وہ ایک بار پھر پاگلوں کی طرح ہنسنے لگا۔بھاگنے کا موقع؟؟؟ایک پاوں کے ساتھ؟؟؟؟ یعنی مجھے خود اپنے ہاتھوں اپنا ہی پاوں کاٹنا ہوگا؟؟؟؟ کچھ لمحوں کو تو اس امر پر میں نے موت کو ہی ترجیح دی۔مگر پھر۔۔۔جب انسان کو جان کے لالے پڑے ہوں تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔۔۔میں نے کانپتے ہاتھوں آری اٹھائی۔اسے آن کیا۔آری کی آواز میری سماعتوں کو چیرنے لگی۔ایک بار پھر میں نے موت کے بارے سوچا۔۔۔اور۔۔۔یکدم شکنجے کے تھوڑا پیچھے ٹخنوں کے ساتھ ہی۔۔۔میں نے آری چلادی۔۔۔۔ آری میری ہڈی کو چیرتی جاتی۔۔۔خون کے فوارے پورے چہرے تک پہنچتے جاتے۔۔۔ میں مارے درد کے چیختا جاتا۔۔۔گورکن ہنستا جاتا"


کہانی کے اس موڑ پر پہنچ کر میرے اپنے جسم پر کپکہاٹ تاری ہوگئی۔میں نے آہستہ آہستہ اس کی ٹانگوں کی طرف دیکھنا شروع کیا۔وہ منظر انتہائی درد ناک تھا۔ اس کی ٹانگ سے چیتھڑوں اور خون کی جیسے بارش ہورہی تھی۔جیسے بِنا آری کے میرے سامنے ہی ٹانگ کاٹی جارہی ہو۔میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔

"بالآخر وہ انتہائی عزیت ناک لمحات میرے پاوں کے ٹانگ سے الگ ہوتے ہی ختم ہوگئے۔مگر وہ درد۔۔۔آہ۔۔۔کبھی کوئی اپنے ہاتھ سے اپنا ہی پاوں نہ کاٹے۔جیسے ہی پاوں کٹا۔میں بڑی مشکل سے اپنے باقی مانندہ پاوں پر کھڑا ہوا۔ اور جمپ لگانا شروع کردیے۔دوسری ٹانگ سے خون مسلسل بہے جا رہا تھا۔میرا سر چکراتا جارہا تھا۔میں انتہائی کمزور پڑتا جارہا تھا۔مگر مجھے اپنی سانسوں کی بقاء کیلیے اسی ایک ٹانگ پر چلتے رہنا تھا۔گورکن ان چاروں سمیت ویسے ہی قہقہے لگاتا میرے پیچھے آہستہ آہستہ چلتا آرہا تھا۔"

مجھے سگریٹ کی طلب محسوس ہوئی۔جونہی میں نے پیک کی طرف ہاتھ بڑھایا وہ خاموش ہوگیا۔میرے سگریٹ سلگانے تک وہ یونہی چپ چاپ کرب بھری نگاہوں سے مجھے دیکھتا رہا۔ 

"کچھ لمحات چھپن چھپائی کا یہ کھیل جاری رہا۔ تب میری ہمت جواب دے گئی۔دلدل نے میرا ایک پاوں پر لڑکھڑا کر چلنا محال کردیا۔ میں نے خود کو نیچے جانے دیا۔اب میں کہنیوں کے بل رینگ رہا تھا۔یوں ہی رینگتے رینگتے اچانک مجھے نیچے سے کسی مخلوق نے آن گھیرا۔وہ جو چیز بھی تھی مجھے زمین کے اندر ہی اندر دھنساتی جا رہی تھی۔میرے حواس اب مکمل طور پر جواب دینے لگے۔ میرا دم گھٹنے لگا۔اسی لمحے اس مخلوق نے مجھے چھوڑ دیا۔میں بڑی مشکل سے پیٹ کے بل رینگتا ہوا ایک نسبتاً اونچی اور خشک جگہ پر پہنچ گیا۔اب میری طاقت جواب دے چکی تھی۔ میں وہیں پڑا رہا۔کچھ ہی دیر بعد گورکن اپنے ان "دوستوں" سمیت میرے اوپر جھکا ہوا تھا۔۔

"چچ چچ چچ۔۔۔۔ کیا ہوا صاحب؟؟؟ بس؟؟؟ اتنے میں ہی تھک گئے؟؟؟ مطلب اب تمہاری ذندگی ہماری "

میں نے آنکھوں میں آئے کیچڑ کے ذرات صاف کرتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔مجھ سے کچھ بولا نہ جا رہا تھا۔بس اس کے سامنے ہاتھ باندھ دیے۔۔۔"

اب کبیر نامی اس تاجر کی حالت لمحہ بالمحہ غیر ہونے لگی۔ میرے لیے بھی وقت وہیں رک چکا تھا۔ میں اسے تسلی دینا چاہتا تھا۔۔۔تسلی؟؟؟ مگر کس کو؟؟؟ 

"میرے جڑے ہاتھ خوف،درد اور کمزوری کے مارے مسلسل کانپ رہے تھے۔ گورکن نے انتہائی سنجیدگی سے میرے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور پھر ایک خوفناک قہقہہ لگاتے ہوئے کہا

"نا صاحب نااب بس۔تجھے بہت مواقع دیے۔اب وقت آگیا ہے کہ تیرے گناہوں کا ازالہ ہو۔ان تمام مظلوموں کے بدلے کا وقت۔۔۔ جن کا حق مار کے تم آج ایک نامی گرامی تاجر بنے ہو۔"

اتنا کہہ کر اس نے ان چاروں کو اشارہ کیا۔وہ میری طرف بڑھے۔میں ایک آدھ فٹ رینگنے میں کامیاب ہوا ہی تھا کہ ایک نے میری گردن آن دبوچی۔ انہوں نے مجھے ایک نسبتاً چھوٹے درخت سے الٹا لٹکا دیا۔ اور پھر۔۔۔ایک بندہ ٹوکہ لے کر میری طرف بڑھا۔دوسرے نے میرا ایک ہاتھ کھینچا اور تیسرے نے دوسرا۔ٹوکہ بردار نے ٹوکہ فضاء میں بلند کیا۔۔۔یوں میرے دونوں ہاتھ میری آنکھوں کے سامنے لمحوں میں ہی کٹ کر زمین پر جاگرے۔میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ اب میری موت بہت قریب پہنچ چکی تھی"

میرے لیے وہ منظر انتہائی اذیت ناک تھا۔اس کے دونوں ہاتھ کٹ کر میرے سامنے فرش پر پڑے تھے۔فرش اب خونی سیلاب کا منظر پیش کررہا تھا۔ہر طرف خون ہی خون۔کٹے ہوئے ہاتھ،کٹا پاوں۔۔۔نجانے آج قدرت مجھے مزید کیا کیا دیکھانا چاہتی تھی۔۔۔ کبیر کی کہانی اختتام کی جانب بڑھ رہی تھی۔

"جب انہیں لگا کہ میں آخری سانسیں لے رہا ہوں۔انہوں نے اپنا آخری وار کیا۔میری آنکھوں نے آخری منظر دیکھا۔ایک تلوار فضاء میں بلند ہوئی۔میری گردن ہوا میں اڑتی ہوئی گورکن کی گود میں جا گری"

اتنا کہنا تھا کہ کبیر کے دھڑ سے اس کا سر جدا ہوا اور اڑ کر میرے قدموں میں آپڑا۔میں ایک زوردار چیخ کے ساتھ اپنی جگہ سے اچھلا۔ مارے خوف کے میرے جسم پر کپکپکی طاری ہوگئی۔اس کا دھڑ اب مہرین کی لاش کے ساتھ پڑاتھا۔ کافی وقت لگا مجھے اپنی حالت سنبھالنے میں۔اور پھر وہیں سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا۔کتاب میرے ہاتھ میں تھی۔تیسری کہانی کا ٹائٹل میرے سامنے تھا 

"اپارٹمنٹ"

" میرا نام عائشہ ہے۔۔۔


Kaisi lag rahi hy story next upload kron k nahi comnt ma bta dain.....

خوف و دہشت پر مبنی داستان۔قسط نمبر 3

 خوف و دہشت پر مبنی داستان ✍

کتاب 📖:

قسط نمبر 3


نوٹ: پراسرار اور خوفناک واقعات کے آغاز سے قبل آپ سے پیشگی معذرت چاہوں گا آنے والی سلسلہ وار اقساط میں وقت کی قلت یا مصروفیت کے باعث اگر کسی ممبر کو فردا فردا ٹیگ یا مینشن نہیں کر پائے تو۔۔ اس لیے گزارش یہی کروں گا کہ آئی ڈی کو فالو کیجیے تاہ کہ کوئی قسط مس نہ ہو جائے۔ اس میں قدرے آسانی اور سہولت ہے۔۔ 

قسط کے آخر میں قسط نمبر 2 کا لنک بھی ان ممبرز کی سہولت کے لیے موجود ہے جنہوں نے نہیں پڑھیں۔۔


اب آگے پڑھیے۔۔۔☆☆☆☆


"میرا نام کبیر ہے۔۔۔۔"

ایک بھاری بھرکم آوز میرے کانوں میں پڑی۔میں نے چونک کر کرسی کی جانب دیکھا۔ اب کے اس لڑکی کی جگہ پر سفید لباس میں ملبوس ایک عام سی شکل و صورت کا ادھیڑ عمر شخص بیٹھا تھا۔ بظاہر وہ ایک مہزب انسان لگتا تھا۔وہ بھی بغیر پلکیں جھپکائے مجھے ہی دیکھے جارہا تھا۔ 

"میں ایک نامی گرامی تاجر تھا۔اس رات میں اپنے کام کے سلسلے میں کہیں دور گیا ہوا تھا۔کام مکمل ہوتے ہوتے شام ہوچکی تھی۔جلدی واپس پہنچنے کے لیے میں نے مختصر راستے کا انتخاب کیا۔لوگ وہ راستہ لیتے ہوئے ڈرتے تھے۔کیونکہ راستہ ویران تھا اور درمیان میں کئی سو سال پرانا قبرستان پڑتا تھا۔ مگر مجھے ان مافوق الفطرت باتوں پر یقین نہ تھا۔میں تو بس جلد ہی گھر پہنچنا چاہتا تھا"

میری سوچوں پر ابھی تک وہی لڑکی سوار تھی۔میری نظر بار بار اس کی لاش پر جاتی۔

"جوں جوں میں آگے بڑھتا جارہا تھا شام کے سائے گہرے ہوتے جاتے تھے۔جب میں آبادی سے نکل کر سنسان جگہ پر پہنچا تو رات کا اندھیرا چھا چکا تھا۔دور دور تک سوائے چند ایک درختوں اور ویران میدان کے سوا کچھ نہ تھا۔حتٰکہ ٹریفک بھی بالکل نہ تھی۔ مگر میں اپنی ہی دھن میں بلاخوف وخطر آگے بڑھتا جارہا تھا۔وہ سڑک بھی کافی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ مجھے گاڑی کی رفتار درمیانی رکھنی پڑ رہی تھی۔جب میں تقریباً آدھا سفر طے کرچکا تو یکدم آسمان پر گہرے بادل چھا گئے۔قبرستان والی جگہ تک پہنچتے پہنچتے طوفانی بارش شروع ہوگئی۔"

وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوا۔ جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔۔

"چند ہی لمحوں میں ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔تب تک میں قبرستان کے درمیان داخل ہوچکاتھا۔سڑک اب کچی تھی۔پانی اس قدر زیادہ تھا کہ گاڑی بڑی مشکل سے چل رہی تھی۔اور پھر قبرستان کے عین درمیان گاڑی رک گئی۔معلوم نہیں کیا ہواتھا۔میں نے کئی بار سٹارٹ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔میراغصہ اور پریشانی بڑھنے لگے تھے۔مجھے تو گاڑی کے حوالے سے کوئی خاص ٹیکنیکل چیزیں بھی معلوم نہ تھیں۔موبائل اٹھایا تو سگنل نہ تھے۔میں بری طرح پھنس چکاتھا۔"

اب میری توجہ اس لڑکی سے ہٹ چکی تھی۔میرے سامنے ایک اور کردار ایک نئی کہانی لیے بیٹھا تھا۔میں ذہنی طور پر کسی بھی قسم کے حالات کے لیے خود کوتیار کرنے لگا۔

"پھر میری نظر کچھ ہی فاصلے پر کھڑے ایک شخص پر پڑی۔اس کے ایک ہاتھ میں لالٹین اور دوسرے میں شاید چھاتا تھا۔وہ میری طرف بڑھ رہا تھا۔ونڈو کے بالکل پاس آکر اس نے شیشہ کھولنے کا اشارہ کیا۔میں نے شیشہ کھولا تو وہ جھک کر بولا

"کہاں جارہے ہوصاحب؟"

میں نے اسے اپنی منزل بارے بتایا تو اس نے کہا

"صاحب ابھی بہت دور ہو تم۔یہ بارش رات بھر یونہی رہے گی۔یہاں کھڑے رہنا خطرے سے خالی نہیں۔"

"تو کیا کروں؟؟"

میں نے پوچھا۔

"صاحب گاڑی ادھر ہی کھڑی کرو اور تم میرے ساتھ میرے جھونپڑے میں چلو۔"

اس نے مجھے آفر دی۔۔

"یہاں گاڑی کو تو کوئی خطرہ نہیں؟؟"

میں نے استفسار کیا

"نہ نہ صاحب۔یہاں کوئی نہیں آتا سوائے چند ایک جانوروں کے"

مرتا کیا نہ کرتا میں نے گاڑی وہیں چھوڑی اور اس کے پیچھے چل دیا۔

"صاحب میں یہاں کا گورکن ہوں۔کئی سالوں سے ادھرہی رہ رہا ہوں۔"

چلتے چلتے اس نے اپنا تعارف کروایا۔

"سنا ہے لوگ اس راستے سے ڈرتے ہیں۔اس قبرستان سے خاص کر خوفزدہ ہیں؟ کیا معاملہ ہے؟"

میں نے پوچھا۔۔

"صاحب یہ مُردوں کی دنیا ہے۔مُردے بھلا کس کو کیا کہیں۔ڈرنا تو زندوں سے چاہیے نا۔"

اس کی بات میں دم تھا۔۔۔

"تو تم نے اتنے سالوں میں یہاں کچھ نہیں دیکھا یا محسوس کیا؟"

"نا صاحب۔میری شاید ان مُردوں سے اب دوستی ہوچکی ہے۔اس لیے مجھے کچھ نہیں کہتے۔"

اس نے ہنستے ہوئے کہا۔بظاہر وہ مذاق کررہا تھا مگر ناجانے کیوں مجھے اُس کا لہجہ اور ہنسی دونوں عجیب لگے۔

"خیرسوائے کچھ جنگلی جانوروں کے میرا پالا اب تک کسی سے نہیں پڑا۔سال میں بس چندایک بار یہاں سے آپ کی طرح کسی انسان سے ٹاکرا ہوجاتا ہے۔"

باتیں کرتے کرتے ہم اس کے جھونپڑے تک پہنچ گئے۔بارش بدستور جاری تھی۔جھونپڑی کے اندرپہنچ کراس نے لالٹین اوپر لٹکائی۔اور مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولا

"صاحب تم یہاں بیٹھو۔میں کچھ کھانے کابندوبست کرتا ہوں"

اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا وہ جاچکا تھا۔جھونپڑی میں ایک چارپائی پڑی تھی۔میں اس پربیٹھ گیا"

میری نظر اس کے لباس پرپڑی تو وہ گیلا ہوچکا تھا۔اس نے اپنی کہانی جاری رکھتے ہوئے کہا۔

"میں حیران تھا کہ اس موسم اور قبرستان میں وہ کہاں سے کھانے کابندوبست کرے گا۔میں اپنی سوچوں میں غلطاں تھا کہ ایک دم میلے کچیلے لباس،بکھرے بالوں اور عجیب شکل کی ایک لڑکی اندر داخل ہوئی۔وہ ہانپ رہی تھی۔ میں محتاط ہوگیا۔

"بھاگ جا یہاں سے ۔ جتنی جلدی ہوسکے اپنی جان بچا۔بھاگ جا۔۔۔بھاگ جا۔۔"

اتنا کہتے ہی وہ الٹے قدموں مڑی اور جس تیزی سے آئی تھی اسی تیزی سے واپس چلی گئی۔میں حیران اور خوفزدہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا۔میری سمجھ میں کچھ نہ آرہا تھا۔ کچھ ہی لمحوں بعد وہ گورکن اندر داخل ہوا۔اس کے ہاتھوں میں سالن سے بھرا لوہے کا ایک پرانا ساکٹورا اورچند روٹیاں تھیں۔ اس نے سامان چارہائی پر رکھا اور بولا

"صاحب آج گوشٙت بنایا تھا۔تمہاری قسمت تھی اس لیےسالن بچ گیا۔تم کھاو میں جب تک پانی لاتا ہوں"

وہ ایک بار پھر باہر چلا گیا۔ بھوک لگی ہوئی تھی اس لیے میں نے بنا کچھ اور سوچے کھانا شروع کردیا۔شوربہ انتہائی لزیز تھا۔پھر ایک نوالے کے ساتھ شاید ایک بوٹی منہ میں چلی گئی۔میں نے چبانا چاہا مگر وہ سخت تھی۔میں نے انگلی کے ذریعے وہ بوٹی باہر نکالی تو میرے اوسان خطا ہوگئے۔وہ انسانی انگلی تھی۔مجھے متلی سی آنے لگی۔وہ انگلی میں نے فوراً نیچے پھینک دی۔پھر ایک خیال کے تحت میں نے سالن کے اندر ہاتھ ڈالا تو۔۔۔برتن کے پیندے میں مزید پانچ چھ انگلیاں پڑی ہوئی تھیں۔ میں نے فوراً اپنے منہ میں انگلیاں ڈال کر الٹی کرنے کی کوشش کی۔مگر اب کچھ نہ ہوسکتا تھا۔مجھے اس لڑکی کی بات یاد آنے لگی۔میں نے ایک خیال کے تحت جھونپڑے سے باہر جھانک کر دیکھا۔کچھ ہی فاصلے پرگورکن ایک جگ پکڑے جھونپڑے کی طرف بڑھ رہاتھا۔بظاہر وہ اکیلا تھا مگر حیران کن طور پر وہ شاید کسی سے باتیں کرتا اور ہنستا آرہا تھا۔ میں نے تیزی سے زمین پر پڑی وہ انگلی اٹھا کر سالن میں رکھی۔سالن کو واپس ڈھانپا اور چارپائی پر بیٹھ گیا۔"

میں اب اس کے چہرے کے بدلتے ہوئے تاثرات دیکھ سکتا تھا۔وہ خوفزدہ تھا۔۔۔ 

"اس نے جھونپڑی میں داخل ہوتے ہی پوچھا

"صاحب تمہارے لیے شربت لایا ہوں۔ اور سالن کیسا تھا؟"

اس نے گلاس میں "شربت" ڈالتے ہوئے پراسرار لہجے میں پوچھا۔

"اچھا۔۔۔اچھا۔۔۔اچھا تھا سالن۔اچھاتھا"

میں نے گھبرا کر کہا۔ اس نے وہ گلاس میرے ہاتھ میں تھمایا اور خود ایک کلہاڑا اٹھا کرجھونپڑی کے کونے میں جا بیٹھا۔میں نے احتیاطاً گلاس کے اندر جھانکا۔۔۔اس میں شربت کی بجائےتازہ اور گاڑھا خون تھا۔

"پیو صاحب۔شربت پیو۔اگر نہ پیو گے تو ہم کو برا لگے گا۔"

وہ کلہاڑے کی دھار تیز کررہا تھا۔اس کی آنکھوں میں انتہائی بھیانک سی چمک اور لہجے میں دھمکی تھی۔ اب میں اس سے ڈرنے لگا تھا۔ میں نے ناک پر ہاتھ رکھا،آنکھیں بند کیں اورزبردستی ایک گھونٹ بھرا۔خون کا نمکین ذائقہ میرے منہ میں بھر گیا۔ میں نے بمشکل خود کو قے کرنے سے روکا۔ 

"اوہ!میں تو بھول ہی گیا صاحب۔میرے کچھ دوست تم سے ملنا چاہتے ہیں۔آجاو اندر"

اس نے زور سے آواز لگائی۔دوست؟؟؟؟؟میں اپنی جگہ پر سمٹنے لگا۔میری نظر جھونپڑے کے دروازے پرتھی۔"

اب کے اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔جن میں واضح خوف ہی خوف تھا۔میں نے اضطراب میں سگریٹ سلگائی۔

"دروازے سے انتہائی لمبے اور برابر قد کے چار خوفناک مرد داخل ہوئے۔ان کے چہرے رات کی طرح سیاہ اور آنکھیں انگاروں کی طرح سرخ تھیں۔انہوں نے کفن نما لمبے سے لباس پہن رکھے تھے۔ یا پھر وہ شاید کفن میں ہی تھے۔۔۔میری نظر بائیں طرف کھڑے ایک شخص کے ہاتھ پر پڑی تو مارے خوف کے میری چیخ نکل گئی۔اس کے ہاتھ میں اسی لڑکی کا تازہ کٹا ہوا سر تھا۔جس سے خون ٹپ ٹپ برس رہاتھا۔میں ہسٹیریکلی اپنی جگہ سے اچھل کر کھڑا ہوا اور ان کے درمیان سے بھاگنے کی کوشش کی۔مگر ان میں سے ایک نے مجھے پھرتی کے ساتھ گردن سے پکڑا اور کھلونے کی طرح ہوا میں کچھ دیر معلق رکھنے کے بعد چارپائی پر پٹخ دیا۔مارے درد کے میری چیخیں نکلنے لگیں۔انہوں نے چارپائی کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔چاروں نے اپنا اپنا بایاں ہاتھ اوپر اٹھایا۔ہر ایک کے ہاتھ میں انتہائی تیز دھار خنجر تھا۔۔۔"

☆☆☆☆جاری ہے۔۔۔

☆☆☆☆۔

Tuesday, May 10, 2022

خوف و وحشت کی خود نوشت۔قسط نمبر 2

 خوف و دہشت پر مبنی داستان ✍

کتاب 📖:

قسط نمبر 2


نوٹ: پراسرار اور خوفناک واقعات کے آغاز سے قبل آپ سے پیشگی معذرت چاہوں گا آنے والی سلسلہ وار اقساط میں اگر کسی ممبر کو وقت کی قلت یا مصروفیت کے باعث اگر کسی ممبر کو فردا فردا ٹیگ یا مینشن نہیں کر پائے تو۔۔ اس لیے گزارش یہی کروں گا کہ آئی ڈی کو فالو کیجیے تاہ کہ کوئی قسط مس نہ ہو جائے۔ اس میں قدرے آسانی اور سہولت 


اب آگے پڑھیے۔۔۔☆☆☆☆


اس لڑکی نے اپنی کہانی جاری رکھتے ہوئے کہا

"وہ ندیدہ قوت مجھے اسی طرح گھسیٹتے ہوئے تہہ خانے تک لے گئی۔ اب تک میری حالت غیر ہوچکی تھی۔خاردار تار کے کانٹے میری ٹانگ کو تقریباً ناکارہ بنا چکے تھے۔سر سے بہنے والا خون مجھے لاغر کر چکا تھا۔اس قوت نے مجھے تہہ خانے کی دیوار کے ساتھ لگایا۔پھر سناٹا چھا گیا۔تہہ خانے کے بلب کی مدہم سی روشنی ماحول کو مزید خوفناک بنا رہی تھی۔ "کون ہو تم آخر؟۔۔۔کیا چاہتے ہو؟" میں زور سے چلائی۔ جواب ندارد۔ پھر ایک دم شور سا اٹھا۔میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ ڈرل مشین تھی۔جو بظاہر خودبخود ہوا میں تیرتی میری طرف بڑھ رہی تھی۔خوفزدہ میں دیوار کے سہارے کھڑی ہونے کی کوشش کرنے لگی۔مگر زخمی ٹانگ میں اٹھنے والی درد کی شدید لہر نے میری یہ کوشش ناکام بنا دی۔ڈرل مشین اب میری دوسری ٹانگ کے بہت قریب پہنچ چکی تھی۔میں چلانا چاہتی تھی مگر میری آواز حلق میں ہی دب گئی۔میں نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کر کے چہرہ دوسری طرف کر لیا۔"

اس کے چہرے پر خوف کے ساتھ ساتھ آواز میں بھی لرزش پیدا ہونے لگی۔ میں نے اس کے سر اور ٹانگ پر توجہ دی تو دونوں سے ابھی بھی خون بہہ رہا تھا۔۔

"پھر۔۔۔ وہ مشین میری ٹانگ کے مختلف حصوں میں سوراخ کرتی گئی۔خون کے فوارے نکلنے لگے۔ وہ درد۔۔۔آہ۔۔۔ وہ درد شاید کبھی کسی نے محسوس نہ کیا ہو۔ میرے منہ سے بس کراہنے کی آواز ہی نکل پائی"

اب کے میں نے چونک کر اس کی دوسری ٹانگ دیکھی۔۔۔ ٹانگ کے اوپر کپڑے میں پانچ چھ سوراخ ظاہر ہونے لگے۔اور خون۔۔۔۔۔ میں اس پر بیتنے والا ایک ایک پل دیکھ رہا تھا۔سامنے۔۔۔اپنی آنکھوں سے۔۔۔سب کچھ۔۔۔ میرا دل بیٹھا جارہا تھا۔ آخر وہ کیا چیز تھی جو اس قدر حسین اور معصوم سی لڑکی کے ساتھ ایسا ظالمانہ سلوک کر رہی تھی؟ میری رگوں کو نکوٹین کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی۔ میں نے کانپتے ہوئے ایک سگریٹ نکالی اور مشکل سے اسے سلگایا۔پہلا کش لیتے ہی کچھ حواس بحال ہوئے۔ مجھے سگریٹ جلاتا دیکھ وہ ایک پل کو خاموش ہوگئی۔جب میں اپنا کام نمٹا چکا تو اس نے کہانی وہیں سے شروع کی۔۔۔

"پھر مشین رک گئی۔رفتہ رفتہ ہوامیں تیرتی ہوئی میز پر جاپڑی۔ "میرے۔۔۔ ساتھ ایسا۔۔۔ کیوں؟؟ ککک ۔۔۔کیا۔۔کیا بگاڑا ہے ۔۔۔۔تتتتم تمہارا۔۔۔ میں نے؟" یہ جملے ادا کرنے میں مجھے جیسے صدیاں لگیں۔۔اور پھر تب مجھے ایسے لگا جیسے میرا ذہن اور سوچ کسی کے قابو میں آگئے ہوں۔مجھے اپنے تخیلات میں ایک فلم چلتی محسوس ہوئی۔شاید وہ جواب تھا۔۔۔"

اس نے وقفہ دیا۔جیسے اب اس کی توجہ اس تخیلاتی فلم کی طرف ہو۔میں نے بے چینی سے کروٹ بدلی۔

"آہ!!!! اب مجھے معلوم ہونے لگا کہ میرا قصور کیا تھا۔ کاش میں نے وہ غلط راستہ نہ اپنایا ہوتا۔کاش میں نے اس کا حق نہ مارا ہوتا۔کاش کہ وہ نہ مرتا۔۔۔۔"

وہ پھر خاموش ہوگئی۔اب کے اس کی آواز میں پچھتاوا تھا۔ جو کہ میں واضح محسوس کر سکتا تھا۔ 

"میں جس پوسٹ پر تھی وہاں مجھ سے پہلے کوئی اور تھا۔اس لیے وہاں تک پہنچنے کے لیے پہلے اسے راہ سے ہٹانا تھا۔ میں ایک امیر کبیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس لیے ایساکرنا میرے لیے چندا مشکل نہ تھا۔اس بندے پر کرپشن کا جھوٹا الزام لگا کر زبردستی اس سے استعفیٰ لیا گیا۔ اس کی جگہ میں نے لے لی۔بدنامی کا داغ لیے وہ شخص جب باہر نکلا تو سارا معاشرہ اس پر تھو تھو کرنے لگا۔کوئی بھی اسے ملازمت دینے کو تیار نہ تھا۔اور پھر ایک دن اس نے خودکشی کر لی۔وہ خبر مجھ تک بھی پہنچی۔بجائے پشیمان ہونے کے الٹا میں نے اسے بزدل کہا۔"

وہ اب باقاعدہ رو رہی تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ آج اس حالت میں واقعی اپنے کیے پر شرمندہ تھی۔ یا صرف اس لیے پچھتا رہی تھی کہ اگر وہ ایسا نہ کرتی تو بچ جاتی؟مگر پھر سوال یہ تھا کہ اس سارے معاملے کا اس ندیدہ قوت سے کیا تعلق تھا؟ وہ کیوں اس سے انتقام لینے پر تلی ہوئی تھی؟ بہت سے سوالات تھے جن کا جواب صرف اسی لڑکی کے پاس تھا۔

"پھر وہ فلیش بیک ختم ہوگیا۔ میرے سامنے دیوار پر ایک سایہ بننے لگا جو آہستہ آہستہ گہرا ہوتا ہوگیا۔ پھر۔۔۔ پھر سب کچھ واضح ہو گیا۔وہ میرے سامنے کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر درندگی اور وحشت تھی۔ وہ مر کر واپس آیا تھا۔مجھ سے اپنے ساتھ کی گئی ناانصافی کا بدلہ لینے۔اب میرا انجام واضح تھا۔ میں نے اپنی تمام تر توانائی یکجا کی اور اس کے سامنے ہاتھ باندھے۔ مگر۔۔۔وہ تو بس نفرت اور حقارت سے مجھے تکے جارہا تھا۔"

اس لڑکی نے جو کچھ بھی کیا تھا اس کے باوجود وہ میری ہمدردی کا مرکز تھی۔ شاید اس لیے کہ وہ خوبصورت تھی۔یا پھر محض اس لیے کہ وہ ایک لڑکی تھی۔

"وہ آہستہ آہستہ میری طرف بڑھنے لگا۔اس کی کنپٹی میں ایک گہرا گڑھا تھا۔جس سے مسلسل خون اور کوئی مائع بہہ رہا تھا۔ میں وہاں سے بھاگنا چاہتی تھی۔میں مدد کے لیے چلانا چاہتی تھی۔مگر زبان کے ساتھ ساتھ میرا پورا جسم گنگ ہوچکاتھا۔وہ میرے قریب پہنچ کر دوزانوں بیٹھ گیا۔اور دیوانہ وار ہنستے ہوئے پاگلوں کی طرح مجھے دیکھنے لگا۔اس نے اپنے دونوں ہاتھ میری کنپٹیوں اور انگوٹھے آنکھوں پر رکھے۔اور پھر وہ انگوٹھے دباتا گیا۔درد۔۔۔درد تو بہت حقیر سالفظ ہے اس سب کے سامنے جس سے میں گزر رہی تھی۔ اس کے انگوٹھے میری دونوں آنکھوں میں پیوست ہوگئے۔کچھ دیر بعد جب اس نے ہاتھ ہٹائے تو میں نابینا ہوچکی تھی۔اپنے گالوں پر خون کی دھاریں محسوس کر رہی تھی"

اس کی وہ خوبصورت سبز آنکھیں۔۔۔جو اب تک مجھ پر مرکوز تھیں۔۔۔آہ۔۔۔اب محض دو گڑھے بن چکی تھیں۔اس کے گالوں پر خون کی دھاریں بہہ رہی تھیں۔ میں وہ منظر نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔مگر شاید میں ہیپنوٹائزڈ ہوچکا تھا۔شاید مجھے وہ منظر دیکھنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔

"اب ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ اسی وقت میرے کانوں میں ایک بھاری بھرکم آواز پڑی۔۔۔"مہرین میڈم۔۔۔تم نے فطرت کی تزلیل کی ہے۔ فطرت خوبصورت ہے۔تم نے اسے بدصورت بنانے کی کوشش کی۔مگر قانونِ فطرت ہے کہ جو بھی اس کی خوبصورتی کو بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے فطرت اسے نہیں بخشتی۔۔۔" اس آواز میں۔غصہ،حقارت،نفرت،طنز سب کچھ تھا۔تب مجھے اپنی گردن پر دو طاقتور ہاتھوں کا بوجھ محسوس ہوا۔وہ ہاتھ میری گردن پر اپنا گھیرا تنگ کرتے جاتے اور میری سانسیں رکتی جاتیں۔۔۔۔اور پھر میں۔۔۔مر گئی۔۔۔"

اس کے آخری الفاظ جیسے میرے دل و دماغ پر ہتھوڑے بن کر برسے۔اب میرے سامنے بولتی ہوئی لڑکی نہیں بلکہ ایک مردہ جسم تھا۔وہ جسم زمین بوس ہوچکا تھا۔میرے ہاتھ پاوں پھولنے لگے۔۔۔۔میرا وہم وگمان سب جواب دینے لگا۔یہ سب کیا تھا؟ مجھے اپنی حواس پر شبہ ہونے لگا۔کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا۔۔۔نہیں یہ خواب نہ تھا۔وہ لڑکی،اس کی کہانی،اور اب اس کا مردہ جسم سب حقیقت تھا۔باہر ایک بار پھر بادل گرج رہے تھے۔۔۔بجلی شدت سے چمک رہی تھی۔مگر اس سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ وقت رک چکاتھا۔۔۔جیسے یہ رات ہمیشہ یونہی رہنی ہو۔ تب مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے میراہاتھ خودبخود واپس کتاب کی طرف بڑھ رہا ہو۔۔۔میں نے کسی انجانی طاقت کے ذیرِ_اثر وہ کتاب دوبارہ اٹھائی۔۔۔میرے سامنے دوسری کہانی کھلی پڑی تھی۔میری نظر عنوان پر پڑی۔۔۔

"گورکن"۔۔۔۔

میں نے ناچاہتے ہوئے کہانی پڑھنا شروع کی۔۔۔

"میرا نام کبیر ہے۔۔۔۔"

☆☆☆جاری ہے۔

خوف و وحشت کی خود نوشت ۔ قسط نمبر 1

خوف وحشت کی خود نو شتیں
کتاب 📖:
قسط نمبر 1۔

پراسرار اور خوفناک واقعات کے آغاز سے قبل آپ سے پیشگی معذرت چاہوں گا آنے والی سلسلہ وار اقساط میں اگر کسی ممبر کو فردا فردا ٹیگ یا مینشن نہیں کر پایا تو۔۔ اس لیے گزارش یہی کروں گا کہ آئی ڈی کو فالو کیجیے تاہ کہ کوئی قسط مس نہ ہو جائے۔ اس میں قدرے آسانی اور سہولت ہے۔ 

اب یہاں سے پڑھیے۔۔۔
☆☆☆۔۔۔سردیوں کی شام تھی۔میں کام سے فارغ ہو کر واپس اپنے مکان کی طرف روانہ تھا۔مکان کیا ایک کمرہ اور واش روم۔ مجھے اس شہر میں تقریباً سال ہونے کو تھا۔ اب تک کچھ ہمسائیوں یا پھر کتاب گھر کے مالک ہارون صاحب سے ہی جان پہچان تھی۔ میں ہر ہفتے کتاب گھر سے ایک کتاب خرید کے لے جاتا۔ اس لیے ہارون صاحب مجھے اور میری پسند کو اچھی طرح جان چکے تھے۔آج ہفتہ تھا اسی لیے میں دکان پر رکا۔ ہارون صاحب مجھے دیکھ کر مسکرائے۔سلام دعا کے بعد انہوں نے بڑے رازدرانہ انداز میں کہا
"شامی صاحب آج نئی کھیپ منگوائی ہے۔کانٹ چھانٹ کے دوران سرخ رنگ کی ایک بالکل نئی کتاب سامنے آئی۔ عام طور پر صرف وہ کتابیں ہی آتی ہیں جو میں منگواتا ہوں۔مگر شاید یہ غلطی سے آگئی۔اس لیے میں نے آپ کے لیے رکھ چھوڑی ہے۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ منفرد کتابیں پڑھنے کے شوقین ہیں"
میں نے غور سے ہارون صاحب کی بات سننے کے بعد کہا
"چلیں ذرا دیکھایئے گا وہ کتاب"
ہارون صاحب نے کاونٹر کے نیچے رکھی کتاب اٹھائی اور مجھے پکڑا دی۔ کتاب کا کور سرخ تھا۔مگر اس کے اوپر کوئی عنوان نہ تھا۔اوراق پلٹے تو پہلے صفحے پر ہی "7 کہانیاں" لکھا ہوا تھا۔ یہ عنوان پڑھتے ہی میں نے ہارون صاحب سے قیمت پوچھی۔انہوں نے کتاب پر لکھی قیمت کچھ کم کر کے مجھ سے وصول کی۔انہیں الوداع کہہ کر میں باہر آگیا۔ اب تقریباً رات ہوچکی تھی۔کچھ وہ شہر قصبہ نما تھا اور کچھ سردی کی وجہ سے راستے سنسان تھے۔ جب میں دکان میں داخل ہوا تو مطلع صاف تھا۔حیرت انگیز طور پر جب باہر نکلا تو آسمان گہرے بادلوں کی لپیٹ میں آچکا تھا۔ جو کہ زوروشور سے گرج نہیں دھاڑ رہے تھے۔ بارش کے ڈر سے میں نے اپنی رفتار بڑھا دی۔ جیسے ہی میں مکان کی دہلیز پر پہنچا بارش شروع ہوگئی۔ وہ کتاب ہاتھ میں پکڑے جونہی میں کمرے میں داخل ہوا سامنے عجیب منظر تھا۔ایسے لگا جیسے کمرے میں ہی کوئی بھیانک طوفان آیا ہو۔سارا کمرہ گرد سے اٹا ہوا،الماری کھلی ہوئی،کتابیں فرش پر اور فرنیچر اِدھراُدھر بکھراپڑا تھا۔خوف کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑ گئی۔خیر ہمت کی اور کافی وقت لگا کر کمرے کی حالت درست کی۔اب میں تھک چکا تھا۔جیسے ہی بیڈ پر لیٹا نیند نے آلیا۔آدھی رات کے وقت دروازے پرزوردار دستک سے آنکھ کھلی۔میں حیران پریشان جب دروازے پر پہنچا توکوئی نہ تھا۔واپس آکے ابھی لیٹاہی تھا کہ دوبارہ دستک ہوئی۔اب کے غصے کی حالت میں دروازہ کھولا تو سامنے مکروہ شکل کی ایک بڑھیا تھی۔اس نے سفید رنگ کا میلا سالباس پہنا ہواتھا۔بال گرد سے اٹے ہوئے تھے۔مجھے دیکھتے ہی بولی۔۔
"تم نے وہ کتاب لے کر اچھا نہیں کیا"
یہ کہتے ہی وہ پلٹی اور اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا آن کی آن میں نظروں سے اوجھل ہوگئی۔میں حیرت کے سمندر میں غوطہ زن اپنی جگہ کچھ دیر کھڑا رہا۔پھر جب حواس بحال ہوئے تو آسمان کی طرف دیکھا۔ بارش رک چکی تھی مگر بادل اب بھی باقی تھے۔کمرے میں واپس آکر میں نے سگریٹ سلگائی اور اس بڑھیا کے بارے سوچنے لگا۔اسے کس نے بتایا کہ میں نے یہ کتاب لی؟ اور کتاب کے ساتھ اس کا کیا تعلق تھا؟یہ سوچتے ہوئے میں نے وہ کتاب اٹھائی۔ اوراق پلٹے۔ عنوان کے مطابق کتاب میں سات کہانیاں تھیں۔کتاب کے اوراق بہترین اور بالکل نئے معلوم ہوتے تھے۔جیسے آج ہی پبلش ہوئی ہو۔خیر میں پہلی کہانی پر پہنچا تو اوپر اس کا ٹائٹل لکھا تھا۔۔۔"قانونِ فطرت"۔۔۔میں نے کہانی پڑھنی شروع کی۔۔۔
"میرا نام مہرین ہے۔۔۔"
اتنا ہی پڑھا تھا کہ مجھے لگا جیسے کوئی نسوانی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ میں نے چونک کر سامنے دیکھاتو میرے ہوش اڑ گئے۔سامنے کرسی پر ایک مناسب قد کی خوبصورت لڑکی بیٹھی تھی۔ اس نے سرخ لباس زیب تن کیا ہواتھا۔ آنکھیں سبز،گہرے بھورے بال جو کمر تک جارہے تھے اور ہلکا سانولا رنگ۔۔۔ میں ایک لمحے کو سکتے میں آگیا۔
"ککک۔۔کون ہیں آپ؟؟؟؟اور کمرے تک کیسے پہنچیں؟؟؟"
میں نے بوکھلا کرکہا۔
"میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھی پوسٹ پر تھی۔۔۔۔"
اس نے میرے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔۔۔
"میں پوچھتا ہوں۔۔۔کون۔۔۔کون ہیں۔۔آآآ۔۔آپ؟؟؟؟"
میں اچھل کرکھڑا ہوگیا۔۔۔
"اس دن کام زیادہ تھا۔اس لیے مجھے آفس میں دیر ہوگئی۔رات کے اندھیرے دن کے اجالوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکے تھے۔باقی تمام کولیگز اور ملازم جاچکے تھے۔۔۔"
اس کی آواز میں ایک عجب سی پراسراریت اور گونج تھی۔اب مجھے اس سے خوف آنے لگا تھا۔۔۔
"مممم۔۔۔میں کہتا ہوں۔۔۔چللللی۔۔۔جائیں یہاں سے۔۔"
اب کی بار اپنی طرف سے میں نے غصے میں کہا۔۔۔ مگر اس نے پھر مجھے نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔
"میں اپنا کام مکمل کر کے تھوڑی دیر سستانے کے لیے اُدھر ہی بیٹھی گئی۔۔۔۔"
اب مجھے سمجھ آنے لگا کچھ کچھ۔۔۔اس کہانی کا مرکزی کردار خود میرے سامنے تھا۔ جب میں بولتا وہ خاموش تو ہوجاتی مگر مجھے جواب دینے یا مجھ سے بات کرنے سے قاصر تھی۔وہ تو محض اپنی کہانی سنانے کے لیے آئی تھی۔
یہ جان کر کہ اب میری کسی بات کا اس پر اثر نہ ہوگا میں خوفزدہ چپ چاپ واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔ وہ بدستور ایک روبوٹ کی طرح بغیر پلیکیں جھپکائے مجھے گھورے جا رہی تھی۔ اس قدر سردی میں بھی میرے پسینے چھوٹ رہے تھے۔۔۔اس نے اپنی کہانی جاری رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
"ابھی مجھے بیٹھے کچھ وقت ہی ہوا تھا کہ مجھے کسی بھاری بھرکم چیز کے گھسیٹنے کی آواز سنائی دی۔ میں نے ڈر کر پیچھے دیکھا تو کچھ بھی نہ تھا۔ میں نے اپنا دھیان بٹانے کے لیے موبائل اٹھا لیا۔ بیگ سے ہینڈ فری نکالا۔جیسے ہی ہینڈفری موبائل میں لگانے لگی کسی نے میرے ہاتھ سے ہینڈ فری چھینا اور دور پھینک دیا۔میں خوف کے مارے اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی۔وہاں میرے علاوہ کوئی نہ تھا۔ڈر سے میری ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اچانک میری نظر مانیٹر پر پڑی۔وہ ہوا میں معلق تھا۔جیسے کسی نے اسے اٹھایا ہوا ہو۔مگر پھر۔۔۔وہاں میرے علاوہ کوئی نہ تھا۔ مانیٹر تھوڑی دیر یونہی ہوا میں معلق رہا۔ پھر ایک جھٹکے سے نیچے گرا۔ میں زور سے چلائی۔پوچھا کہ کون ہے۔مگر کوئی جواب نہ ملا۔ میں دروازے کی جانب بھاگی۔مگر کسی نادیدہ قوت نے اٹھا کر مجھے فرش پر پٹخا۔میں پیٹھ کے بل نیچے گری۔میری گردن اور کمر میں شدید درد شروع ہوگیا۔مگر اس وقت مجھے درد کی پرواہ نہیں تھی۔ میں ہمت کر کے اپنے پیروں پر کھڑی ہوئی۔اس بار ایک زور دار دھچکا لگا اور ایک بار پھر میں زمین پر آرہی۔ اب کے میں نے چلانا شروع کردیا۔مگر وہاں بظاہر ایساکوئی نہ تھا جو میری چیخیں سنتا۔ اِدھر میں چلاتی جاتی اُدھر وہ نادیدہ قوت آفس کا سارا سامان اِدھراُدھرپھینکتی جاتی۔جیسے مجھے چپ رہنے کا اشارہ دے رہی ہو۔ وہ جو چیز بھی تھی شدید غصے میں لگ رہی تھی۔اسی لیے میں نے چپ رہنے میں ہی آفیت جانی۔میری چپ کے ساتھ ہی آفس میں سناٹا چھا گیا۔یہ سناٹا جب تھوڑی دیر ویسے ہی رہا تو یہ سمجھ کر کہ وہ مخلوق جاچکی ہے میں نے دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی۔جیسے ہی میں لڑکھڑاتے ہوئے اپنے قدموں پر کھڑی ہوئی مجھے ایسے لگا جیسے میری داہنی ٹانگ جسم سے الگ ہوچکی ہے۔سکتے کے عالم میں میں نے اپنی ٹانگ کی طرف دیکھا۔ ایک خار دار تار میری ٹانگ سے جکڑی ہوئی تھی جس کا دوسرا سرا چند فٹ کے فاصلے پر ہوا میں معلق تھا۔تارکے کانٹے میری ٹانگ میں پیوست تھے۔جیسے گوشت کو چیرتے ہوئے ہڈیوں تک جا پہنچے تھے۔خون کی دھاریں میری ٹانگ سے نکل کر پاوں اور فرش کو سرخ کیے جارہی تھیں۔میں ایک جھٹکے سے نیچے گری۔درد کی وہ شدت ناقابل بیان تھی۔ میں نے چیخ چیخ کر رونا شروع کردیا۔ تھوڑی دیر میں یونہی روتی رہی۔۔۔پھر اچانک اس تار میں تناو بڑھنا شروع ہوا۔ تناو کے ساتھ ہی میری ٹانگ بھی کھنچی چلی جارہی تھی۔اور پھر میرا جسم بھی گھسیٹا جانے لگا۔۔۔وہ تار مجھے ساتھ گھسیٹتے ہوئے سیڑھیوں کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔"
میں نے اس کی کہانی سنتے ہوئے اس کی ٹانگ کی طرف دیکھا تو مارے خوف کے میری آنکھیں پھیل گئیں۔۔۔اس کی ٹانگ سے تازہ خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔ایک لمحے کو میں کانپ اٹھا۔۔۔ 
"وہ قوت اسی طرح گھسیٹتے ہوئے مجھے سیڑھیوں تک لے گئی۔ میں نے اپنی تمام تر طاقت سے سیڑھیوں کا جنگلا پکڑنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔ میرا جسم سیڑھیوں پر لڑھکتا گیا۔مجھے اپنی ہڈیاں چٹختی ہوئی محسوس ہونے لگیں۔بار بار سیڑھیوں سے ٹکرانے کے باعث میرے سر سے بھی خون بہنے لگا"
اب کے تکلیف کے اثار اس کے چہرے پر نمایاں ہونے لگے۔جیسے جیسے وہ کہانی سناتی جارہی تھی اس کے سر سے بھی خون کی دھاریں بہتی جارہی تھیں۔ میری حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو خون نہیں۔۔۔ 
جاری ہے۔۔۔۔
۔

ہلاکوخان کی بیٹی اور عالم۔۔

 *╭┄┅┅┅─══❁﷽❁══─┅┅┅•┄╮*

     *🤝اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎*  

 ➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖



ہلاکو خان کی بیٹی بغداد میں گشت کررہی تھی کہ ایک ہجوم پر اس کی نظر پڑی۔

پوچھا لوگ یہاں کیوں اکٹھے ہیں؟ 


جواب آیا:

ایک عالم کے پاس کھڑے ہیں۔ 

 اس نے عالم کو اپنے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا۔ 

 عالم کو تاتاری شہزادی کے سامنے لا کر حاضر کیا گیا۔


 شہزادی مسلمان عالم سے سوال کرنے لگی: 

کیا تم لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے؟


 عالم: یقیناً ہم ایمان رکھتے ہیں

 شہزادی: کیا تمہارا ایمان نہیں کہ اللہ جسے چاہے غالب کرتا ہے؟


 عالم: یقیناً ہمارا اس پر ایمان ہے۔

 شہزادی: تو کیا اللہ نے آ ج ہمیں تم لوگوں پر غالب نہیں کردیا ہے؟


 عالم: یقیناً کردیا ہے-

شہزادی: تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ خدا ہمیں تم سے زیادہ چاہتا ہے؟


 عالم: نہیں

 شہزادی: کیسے؟

 عالم: تم نے کبھی چرواہے کو دیکھا ہے؟


 شہزادی: ہاں دیکھا ہے

 عالم: کیا اس کے ریوڑ کے پیچھے چرواہے نے اپنے کچھ کتے رکھے ہوتے ہیں؟


 شہزادی: ہاں رکھے ہوتے ہیں۔

 عالم: اچھا تو اگر کچھ بھیڑیں چرواہے کو چھوڑ کر کسی دوسری طرف کو نکل کھڑی ہوں، اور چرواہے کی سن کر واپس آنے کو تیار ہی نہ ہوں، تو چرواہا کیا کرتا ہے؟


 شہزادی:وہ ان کے پیچھے اپنے کتے دوڑاتا ہے تاکہ وہ ان کو واپس اس کی کمان میں لے آئیں۔

 عالم: وہ کتے کب تک ان بھیڑوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں؟

 شہزادی:جب تک وہ فرار رہیں اور چرواہے کے اقتدار میں واپس نہ آجائیں۔


 عالم نے کہا : تم تاتاری لوگ زمین میں ہم مسلمانوں کے حق میں خدا کے چھوڑے ہوئے کتے ہو جب تک ہم خدا کے در سے بھاگے رہیں گے


 اور اس کی اطاعت اور اس کے منہج پر نہیں آجائیں گے، تب تک خدا تمہیں ہمارے پیچھے دوڑائے رکھے گا، اور ھماری گردنوں پر مسلط رکھے گا ۔ جب ہم خدا کے در پر واپس آجائیں گے ،اُس دن تمہارا کام ختم ہوجائے گا۔

مولانا رومی اور درزی۔۔

 _*ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻣﯽ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺯﯼ ۔۔۔۔ !*_


ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻣﯽ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﺯﺑﺎﻥ ﺁﺩﻣﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺩﺭﺯﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﮮﺩﺍﺭ ﻗﺼﮯ ﺳﻨﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﻬﺎ ،

ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﮔﻮ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﺭﮐﻬﺘﺎ ﺗﻬﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﺍﭼﻬﺎ ﺧﺎﺻﺎ ﺩﺭﺯﯼ ﻧﺎﻣﮧ ﻣﺮﺗﺐ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﺗﻬﺎ ،

ﺟﺐ ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺩﺭﺯﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﮔﺎﮨﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﭙﮍﺍ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮔﻨﺖ ﻗﺼﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﮈﺍﻟﮯ ،

ﺳﻨﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﮏ ﺧﻄﺎ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺗﺮﮎ ﺟﺴﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺍﻧﺶ ﻭ ﺫﮨﺎﻧﺖ ﭘﺮ ﺑﮍﺍ ﻧﺎﺯ ﺗﻬﺎ

ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ،

” ﺍﺱ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮔﺮﻭ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﮨﮯ ؟

ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﮔﻮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ”

: ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮨﺮ ﻓﻦ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﮔﻠﯽ ﮐﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ ،

ﻟﯿﮑﻦ ﭘﻮﺭﺵ ﻧﺎﻣﯽ ﺩﺭﺯﯼ ﺑﮍﺍ ﻓﻨﮑﺎﺭ ﮨﮯ ،

ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﭨﮯ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﺮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،

ﮨﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮧ ﮐﭙﮍﺍ ﺗﻮ ﮐﭙﮍﺍ ﺁﻧﮑﻬﻮﮞ ﮐﺎ ﮐﺎﺟﻞ ﺗﮏ ﭼﺮﺍﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﻧﮧ ﻟﮕﻨﮯ ﺩﮮ،

ﺗﺮﮎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ :

ﻟﮕﺎ ﻟﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺷﺮﻁ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﭙﮍﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ ،

ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮑﻬﻮﮞ ﮔﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﻬﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻫﻮﻝ ﭘﻬﻮﻧﮏ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﺍ ﭼﺮﺍﺗﺎ ﮨﮯ،

ﻣﯿﺎﮞ ﮐﭙﮍﺍ ﺗﻮ ﺩﺭﮐﻨﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺗﺎﺭ ﺑﻬﯽ ﻏﺎﺋﺐ ﻧﮧ ﮐﺮﺳﮑﮯ ﮔﺎ “

،ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ “

ﺍﺭﮮ ﺑﻬﺎﺋﯽ ﺫﯾﺎﺩﮦ ﺟﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺁ،

ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﻬﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺩﻋﻮﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﺭﺯﯼ ﺳﮯ ﭼﻮﭦ ﮐﻬﺎﮔﺌﮯ،

ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻘﻞ ﻭ ﺧﺮﺩ ﭘﺮ ﻧﮧ ﺟﺎ،

ﺩﻫﻮﮐﺎ ﮐﻬﺎﺋﮯ ﮔﺎ ”

،ﻣﺤﻔﻞ ﺑﺮﺧﺎﺳﺖ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﺮﮎ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻬﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﺳﯽ ﭘﯿﭻ ﻭ ﺗﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﻓﮑﺮ ﻭ ﺍﺿﻄﺮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﮔﺰﺍﺭﯼ ﺻﺒﺢ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺍﻃﻠﺲ ﮐﺎ ﮐﭙﮍﺍ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﺭﺵ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﭘﻮﭼﻬﺘﺎ ﭘﻮﭼﻬﺘﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ،

ﺩﺭﺯﯼ ﺍﺱ ﺗﺮﮎ ﮔﺎﮨﮏ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﻬﺘﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺍﺩﺏ ﺳﮯ ﮐﻬﮍﺍ ﮨﻮﮐﺮ ﺗﺴﻠﯿﻤﺎﺕ ﺑﺠﺎﻻﯾﺎ،

ﺩﺭﺯﯼ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﺍﺧﻼﻗﯽ ﻭ ﺗﻌﻈﯿﻢ ﻭ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﺮﮎ ﺑﮯﺣﺪ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺍ ،

ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﺗﻮ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻋﯿﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺩﻏﺎﺑﺎﺯ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ،ﻟﻮﮒ ﺑﻬﯽ ﺧﻮﺍﮦ ﻣﺨﻮﺍﮦ ﺭﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﭘﮩﺎﮌ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،

ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺍﻃﻠﺲ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺩﻫﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ “ ﺍﺱ ﺍﻃﻠﺲ ﮐﯽ ﻗﺒﺎ ﻣﺠﻬﮯ ﺳﯽ ﺩﯾﮟ۔ ” ﺩﺭﺯﯼ ﻧﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﺩﺏ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﺎﻧﺪﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ

“ ﺣﻀﻮﺭ ﻗﺒﺎ ﺍﯾﺴﯽ ﺳﯿﻮﮞ ﮔﺎ ﺟﻮ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺯﯾﺐ ﺩﮮ ﮔﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺩﯾﮑﻬﮯ ﮔﯽ،

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﺍ ﮔﺰ ﺳﮯ ﻧﺎﭘﺎ ﭘﻬﺮ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﺑﺠﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻧﺸﺎﻥ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ،

ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺩﻫﺮ ﺍﺩﻫﺮ ﮐﮯ ﭘﺮﻟﻄﻒ ﻗﺼﮯ ﭼﻬﯿﮍ ﺩﯾﺌﮯ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﮨﻨﺴﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﮎ ﮐﻮ ﺑﮯﺣﺪ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ،

ﺟﺐ ﺩﺭﺯﯼ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺩﯾﮑﻬﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﺰﺍﺣﯿﮧ ﻟﻄﯿﻔﮧ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﺟﺴﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺗﺮﮎ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭼﻨﺪﻫﯽ ﭼﻨﺪﻫﯽ ﺁﻧﮑﻬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﻬﯽ ﻣﭻ ﮔﺌﯿﮟ ﺩﺭﺯﯼ ﻧﮯ ﺟﻬﭧ ﭘﭧ ﮐﭙﮍﺍ ﮐﺎﭨﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﻥ ﺗﻠﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺩﺑﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﻮﺍﺋﮯﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺎ ،

ﻏﺮﺽ ﮐﯽ ﺍﺱ ﭘﺮﻟﻄﻒ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﺮﺍﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﮎ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﺻﻞ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﻮﯼ ﻓﺮﺍﻣﻮﺵ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﻬﺎ ،

ﮐﺪﻫﺮ ﮐﯽ ﺍﻃﻠﺲ ،

ﮐﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﺷﺮﻁ،

ﮨﻨﺴﯽ ﻣﺬﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﺗﺮﮎ ﺩﺭﺯﯼ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺩﺭﺯﯼ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﻣﺰﯾﺪﺍﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﺎﻭ ،

ﺩﺭﺯﯼ ﻧﮯ ﭘﻬﺮ ﭼﺮﺏ ﺯﺑﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﯿﺎ ،ﺗﺮﮎ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﻨﺴﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﻬﯿﮟ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﺌﯿﮟ ،

ﮨﻮﺵ ﻭ ﺣﻮﺍﺱ ﺭﺧﺼﺖ ،

ﻋﻘﻞ ﻭ ﺧﺮﺩ ﺍﻟﻮﺩﺍﻉ،

ﺍﺱ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺩﺭﺯﯼ ﻧﮯ ﭘﻬﺮ ﮐﭙﮍﺍ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﺭﺍﻥ ﺗﻠﮯ ﺩﺑﺎ ﻟﯿﺎ ،

ﺗﺮﮎ ﻧﮯ ﭼﻮﺗﻬﯽ ﺑﺎﺭ ﻣﺬﺍﻕ ﮐﺎ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﺣﯿﺎ ﺁﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ،

ﻣﺰﯾﺪ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺍﮔﺮ ﮨﻨﺴﯽ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺗﯿﺮﯼ ﻗﺒﺎ ﺗﻨﮓ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ،


ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻣﯽ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ :-

ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﻭﮦ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﻮﻥ ﺗﻬﺎ ؟،

ﺩﻏﺎﺑﺎﺯ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﻮﻥ ﺗﻬﺎ ؟؟

ﺍﻃﻠﺲ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺴﻨﯽ ﻣﺬﺍﻕ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ؟؟

ﻗﯿﻨﭽﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﺎ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ؟؟


*ﺳﻨﻮﮞ*

*ﻭﮦ ﻏﺎﻓﻞ ﺗُﺮﮎ ﺗﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﮨﮯ*

*ﺟﺴﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻘﻞ ﻭ ﺧﺮﺩ ﭘﺮ ﺑﮍﻫﺎ ﺑﻬﺮﻭﺳﮧ ﮨﮯ* ،

*ﻭﮦ ﻋﯿﺎﺭ ﺩﻫﻮﮐﮧ ﺑﺎﺯ ﺩﺭﺯﯼ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎﺋﮯ ﻓﺎﻧﯽ ﮨﮯ ،*

*ﮨﻨﺴﯽ ﻣﺬﺍﻕ ﻧﻔﺴﺎﻧﯽ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮨﯿﮟ*،

*ﺗﯿﺮﯼ ﻋﻤﺮِ ﺍﻃﻠﺲ ﭘﺮ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﯽ ﻗﯿﻨﭽﯽ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺩﻝ ﻟﮕﯽ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﺗﯿﺮﯼ ﻏﻔﻠﺖ ﮨﮯ،*

*ﺍﻃﻠﺲ ﮐﯽ ﻗﺒﺎ ﺗﺠﻬﮯ ﺑﻬﻼﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﻠﻮﺍﻧﯽ ﺗﻬﯽ،*

*ﻭﮦ ﻓﻀﻮﻝ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﻭﺭ ﻗﮩﻘﮩﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺎﮦ ﻭ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮﮔﺌﯽ،*

*ﺍﮮ ﻋﺰﯾﺰ ! ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﺵ ﻭ ﺣﻮﺍﺱ ﺩﺭﺳﺖ ﮐﺮ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﻮ ﭼﻬﻮﮌ،*

*ﺑﺎﻃﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﺮ، ﺗﯿﺮﯼ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﺍﻃﻠﺲ ﻟﯿﻞ ﻭ ﻧﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﻗﯿﻨﭽﯽ ﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻣﮑﺎﺭ ﺩﺭﺯﯼ ﭨﮑﮍﮮ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﺮﮐﮯ ﭼﺮﺍﺋﮯ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﮨﻨﺴﯽ ﻣﺬﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮨﮯ*،،


( حکایات رومیؒ )

مڈل کلاس انٹرو ورٹ۔

 مڈل کلاس شرمیلے انٹروورٹ اور ہر کام میں جھجک محسوس کرنے والے لوگوں کےلئے ایک اچھی ٹریک ہے۔ مجھے ایک سائیکائٹرسٹ نے بتایا تھا مجھ پہ کام کرگیا تھا۔ مہنگے شاپنگ مال جائیں وہاں کوئ چیز اٹھائے سوٹ شوز وغیرہ اور کاوونٹر پر ڈسکاؤنٹ کے لئے بحث کریں۔ بے شک خریدیں مت۔ چنانچہ وہاں ہر چیز کا فیکس ریٹ ہوتا ہے ڈسکاؤنٹ نہیں دیتے لیکن بحث کرنا ہے کہ یہ مہنگا ہے تھوڑا سستا دے دو۔ وہ کھائے گا نہیں آپ کو بلکہ آپکی خود اعتمادی بڑےگی۔ اسی طرح فائیو سٹار ہوٹل میں جائیں چشمہ لگا کے سوٹ بوٹ ہوکے مینیو چیک کریں پھر واپس آجائیں بہانہ کرکے کہ اس میں میری فیورٹ ڈش نہیں ہے یا مزہ نہیں ہے۔۔اسی طرح پبلک پلیس میں آنکھ میں آنکھ ملا کے اجنبیوں سے جان بوجھ کے کوئ ایڈریس پوچھا کریں راستہ پوچھا کریں اس سے آپ کا شرمیلا پن ختم ہوتا جائے گا۔۔میں اتنا شائ شرمیلا تھا بات کرکے وقت میری گھگی بند ہوجاتی تھی۔۔یہ ٹریکس فالو کر کے میرا شائنیس ختم ہوگیا۔۔

زندگی پر سکون بنا یئے۔

 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔


 *زندگی پرسکون بنائیۓ* 


 اکثر انسان جن چیزوں کو اپنی زندگی کا محور اور مرکز بناتا ہے ، وہ عارضی فانی اور تغیر پذیر چیزیں ہوتی ہیں ، انسان بھی اسی میں آجاتے ہیں ، تو پھر ان میں نشیب و فراز آتے ہی رہتے ہیں،ان چیزوں کو سر پر سوار مت کریں۔


 بقول علامہ اقبال


 سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں 

 ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں ۔۔


   تمام تر باتیں کہنے کا مطلب یہ کہ زندگی کا حقیقی نصب العین صرف اللہ کی ذات ہے ، یہی وہ مرکز ہے جس کو پا کر زندگی سودوزیاں کے اندیشوں سے بہت بلند ہوجاتی ہے ، اور حوادثات زمانہ کے تھپڑوں میں پہاڑوں اور چٹانوں کی مانند ثابت قدمی اور استقامت کا پیکر بن جاتی ہے ۔


 عارف رومی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ 

 یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند بتانِ وہم و گماں لا الہ الا اللہ ۔


 یعنی دنیا کا مال دولت اور رشتے ناطے سب وہم و گماں کے بوتے ہیں ، کائنات کے اندر کوئی حقیقت ہے اور دل لگائے جانے کے قابل ہے تو فقط اللہ کی ذات ۔ 


 اور اپنا حقیقی مرکز اللہ کی ذات کو بناتے ہیں تو ہماری ذات میں بیلنس آجاتا ہے تو ازن و ہم آہنگی آ جاتی ہے، stability a Jaati Hai.


 *" عقلمند وہ ہے جو چیزوں کو ان کے مقام پر رکھے"* 

 اور ایک عام انسان کبھی ایک مسئلہ کو سر پر سوار کرتا ہے کبھی دوسرے کو اس سے زندگی میں عدم توازن آ جاتا ہے۔


 اور پھر زندگی ڈانواں ڈول سے ہو جاتی ہے۔۔

 لیکن جب ہم اپنا حقیقی مرکز اللہ کو بنا لیتے ہیں تو باقی تمام سرگرمیاں اس مرکز کے گرد گھومتی رہتی ہیں پھر ہر چیز اسی مقام پر ہوتی ہے جس پر اسے ہونا چاہیے۔

 


 قلم کار ازخود عبدالوہاب عاجز ۔

اوور تھنکنگ کیا ہے۔۔۔


اوور تھنکنگ کیا ہے!!!


سوچ کو روکنا ممکن نہیں لیکن اسکا بہترین حل یہ ہے کہ آپ سوچ کا پیچھا نہ کریں، جو بھی خیال ذہن میں آئے اسے جانے دیں، اسکا پیچھا نہ کریں اسے رپیٹ کر کر کے مزہ نہ لیں۔ جیسے کسی سے انتقام کی سوچ ذہن میں آئے تو انسان اسے بار بار مختلف انداز سے مختلف طریقوں سے انتقام لینے کا سوچتا ہے اور خود اس سوچ کا پیچھا کرتا ہے، اسی طرح مختلف اوہام کہ ہائے یہ نہ ہو جائے ہائے وہ نہ ہو جائے دماغ کو الجھائے رکھتے ہیں۔ یاد رکھیں منفی سوچیں شیطان اور نفس کے وسوسے ہیں، ان دونوں کا کام آپکو آئیڈیا دینا ہوتا ہے باقی کام آپ خود کرتے ہیں اس آئیڈیا کو فالو کر کے۔ بس آپ نے آئیڈیا کو فالو نہیں کرنا، جانے دینا ہے۔ سال چھ مہینے پریکٹس کریں گے تو عادت بن جائیگی اور اوور تھنکنگ آپکا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔ ورزش اور اچھے کاموں میں خود کو کھپا دریں۔


اوور تھنکنگ کا علاج


روحانی علاج کیلئے صبح شام کی مسنون دعائیں اور موذتین یعنی تینوں قل تین تین بار صبح شام پڑھیں۔ کلمہ طیبہ اور درود شریف کی کثرت رکھیں۔ توکل علی اللّٰہ رکھیں یعنی تقدیر کا لکھا کوئی نہیں ٹال سکتا میرے سوچنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، میں تو صرف دعا اور اپنی طرف سے مخلصانہ کوشش کر سکتا ہوں باقی اللّٰہ مالک ہے جو ہوگا دیکھا جائیگا۔


آپ کو اوور تھنکنگ سے روکنے کے لیے ١٠ آسان طریقے


ظاہری طور پر اوور تھنکنگ (یعنی زیادہ سوچنا) اتنی بری چیز نہیں لگتی۔ ۔ ۔ سوچنا تو اچھی بات ہے نا؟ 


لیکن اوورتھنکنگ مسائل پیدا کر سکتی ہے۔


جب آپ زیادہ سوچتے ہیں تو آپ کے فیصلہ کرنے کی صلاحیت دھندلا جاتی ہے اور آپ کے سٹریس (یعنی ذہنی دباؤ) میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ آپ منفی سوچ میں وقت ضائع کر دیتے ہیں۔ یوں آپ کو کام کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔


اگر یہ مسئلہ آپ کو جانا پہچانا معلوم ہوتا ہے تو آپ کو اوورتھنکنگ سے آزاد کرنے کے لیے یہاں دس آسان تدابیر بتائی جا رہی ہیں۔


١۔ آگاہی ہی تبدیلی کی شروعات ہے

اس سے پہلے کہ آپ اپنی اوورتھنکنگ کی عادت کا مقابلہ کرنا شروع کریں آپ کو اپنی اوورتھنکنگ کے بارے میں ہوشیار اور مطلع ہونا ضروری ہے۔ جب بھی آپ خود کو بے چینی۔ ۔ ۔تذبذب ۔ ۔ ۔ہچکچاہٹ یا ذہنی دباؤ کا شکار پائیں ایک لمحے کے لیے رک جائیں۔ صورتِ حال اور اپنے ردِ عمل کا جائزہ لیں۔ آگاہی کے اسی لمحے میں آپ کو اس تبدیلی کا اشارہ مل جائے گا جو آپ کی ضرورت ہے۔


2- یہ نہ سوچیں کہ کون سے کام بگڑ سکتے ہیں بلکہ ان کاموں پر دھیان دیں جو ٹھیک ہو سکتے ہیں

بہت سی حالتوں میں اوور تھنکنگ کی وجہ صرف ایک ہی احساس بنتا ہے: (وہ ہے) "خوف"۔ جب آپ اپنی توجہ تمام منفی باتوں کے رونما ہونے پر مرکوز کرتے ہیں تو بے کار رہنا آسان ہو جاتا ہے۔ آئندہ جب آپ کو ایسا لگے کہ آپ منفی سمت واپس جانے لگے ہیں تو رک جائیں۔ اپنی توجہ ان کاموں کی طرف کر لیں جو ٹھیک کئےجا سکتے ہیں اور انہی خیالات کو حاضر اور مقدم رکھیں۔


3- خود کو خوشی کی طرف موڑ لیں

بعض اوقات خود کو خوش۔ ۔ ۔مثبت اور مفید متبادل راستوں پر ڈال دینا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ مراقبہ۔ ۔ ۔ رقص کرنا۔ ۔ ۔ کوئی ساز سیکھنا۔ ۔ ۔ سلائی کڑھائی کرنا۔ ۔ ۔ مصوری یا رنگ سازی جیسی چیزیں آپ کو مسائل سے دور کر دیتی ہیں اور حد سے زیادہ تجزیہ کرنا ختم ہو جاتا ہے۔


4- حالات کو ظاہری تناسب سے پرکھیں

باتوں کو ضرورت سے زیادہ بڑا بنا دینا یا منفی بنا دینا ہمیشہ آسان ہوتا ہے۔ آئندہ جب آپ خود کو کسی بات کا بتنگڑ بناتا ہوا پائیں۔ ۔ ۔ خود سے ضرور پوچھیں کہ یہ معاملہ اگلے پانچ سالوں میں کتنا اہم ہو گا۔ یا اگلے ماہ یہ مسئلہ کس نہج پہ ہو گا؟ بس یہ سادہ سا سوال۔ ۔ ۔ یعنی خیالات میں وقت کی حد کو بدل دینا اوور تھنکنگ کو ختم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

Monday, May 9, 2022

ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

 شاعر: ڈاکٹر علامہ محمّد اقبال

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں

جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں


کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا

نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں


ولایت، پادشاہی، علم اشیاء کی جہاں گیری

یہ سب کیا ہیں، فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریں


براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے

ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں


تمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہے

حذر اے چیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں


حقیقت ایک ہے ہر شے کی، خاکی ہو کہ نوری ہو

لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں


یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

وُہ غلطیاں جو موبائل استمال کرتے وقت نہیں كرنی چاہی۔

 _*📲 وہ غلطیاں جو اسمارٹ فونز کی زندگی مختصر کرنے کی وجہ بنتی ہیں📱*_


*آج کی دنیا* میں ہر دوسرے انسان کے پاس مختلف کمپنیوں کے سمارٹ فونز موجود ہیں۔


کیا آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسمارٹ فونز کی زندگی ایک یا 2 سال سے زیادہ کی نہیں ہوتی ہے؟


 کیونکہ بعض اوقات انسان چند ایسی غلطیاں کرتے ہیں جو بظاہر نقصان دہ نہیں ہوتیں مگر اسمارٹ فونز کی زندگی مختصر کرنے کا باعث بن جاتی ہیں۔


خیال رہے کیونکہ سب ہی جانتے ہیں کہ اسمارٹ فون سستا نہیں ہوتا تو اس لیے ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ جب تک ہو اسے استعمال کیا جائے۔


اس ہی لیے اگر آپ کی بھی خواہش ہے کہ تو ان غلطیوں سے محفوظ رہے جو فونز کی زندگی کے لیے تباہ کن ہوتی ہیں۔


وٹیفکیشنز کے لیے وائبریشن کو ترجیح دینا


آپ کا فون، دیگر کسی ٹول یا ڈیوائس کی طرح عمر گزارتا ہے اور زیادہ استعمال پر اس کی افادیت کم ہونے لگتی ہے۔


اس حوالےسے ماہرین کے مطابق کچھ فیچرز جیسے وائبریٹنگ نوٹیفکیشنز کے نتیجے میں فون کے لیے کام کرنا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں فون کو غیر ضروری کاموں کے لیے بھی مکمل گنجائش کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔


انسانوں کی طرح ایک فون کو بھی کچھ آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔


ان ایپس کو فون میں رکھنا جن کو استعمال نہیں کرتے


آئی فون ہو یا کوئی اینڈرائیڈ ڈیوائس، ایسی ایپس جن کو استعمال نہیں کیا جاتا ہے وہ بیٹری لائف کو چوستی ہیں۔


ایسی ایپس جن کو استعمال نہیں کرتے تو بہتر ہے کہ ان کو ڈیلیٹ کردیں۔


ایس اکرنے سے نہ صرف بیٹری لائف بڑھ جائے گی بلکہ قیمتی اسپیس بھی حاصل ہوسکے گا۔


غیر ضروری پرمیشن کی اجازت دینا


رائیڈ شیئرنگ ایپس کو آپ کو پک کرنے کے لیے لوکیشن کی ضرورت ہوتی ہے مگر دیگر ایپس کو اس پرمیشن کی ایسی کیوں خاص ضرورت نہیں ہوتی ہے۔


رات بھر چارجنگ


صبح اٹھنے پر مکمل چارج فون کا خیال بظاہر تو اچھا ہے مگر رات بھر کے لیے ڈیوائس کو چارجنگ کے لیے چھوڑنا طویل المعیاد بنیادوں پر نقصان دہ ہوتا ہے۔


جب فون سوفیصد چارج ہوجاتا ہے تو بھی ٹریکل چارج کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔


یہ اضافی چارج بیٹری کو نان اسٹاپ کام کرنے پر مجبور کرتا ہے، بہتر تو یہ ہے کہ لیتھیم آئیون بیٹری کو مکمل چارج نہ کریں۔


 کیونکہ زیادہ والٹیج بیٹری پر دباؤ بڑھاتا ہے اور وقت کے ساتھ کارکردگی خراب ہوجاتی ہے۔


بیٹری کو چوسنے والی ایپس


کچھ ایپس ایسی ہوتی ہیں جو بیٹری کو بہت جلد ختم کرتی ہیں جن میں اسنیپ چیٹ، گوگل میپس، نیٹ فلیکس اور فیس بک قابل ذکر ہیں۔


دی گارڈین کے مطابق صرف فیس بک ایپ کو اینڈرائیڈ سے ڈیلیٹ کرکے بیٹری لائف کو 20 فیصد بہتر بنایا جاسکتا ہے۔


 جبکہ فیس بک میسنجر ایپ سے بھی چھٹکارا پالیں تو دیگر ایپس کا لوڈ ٹائم 15 فیصد تیز ہوسکتا ہے۔


فیس بک خاص طور پر بیٹری لائف کو زیادہ تیزی سے ختم کرتی ہے کیونکہ اس کو استعمال نہ بھی کریں تو بھی یہ بیک گراؤنڈ میں کام کرتی رہتی ہے۔


بہت زیادہ برائٹ اسکرین


ڈسپلے مینیو میں اڈاپٹو برائٹنس کو ٹرن آن کردیں، جس سے فون کو اسکرین برائٹنس ماحول کے مطابق ایڈجسٹ کرنے میں مدد ملے گی۔


اپنے بستر یا تکیے کے نیچچے رکھنا


سوتے ہوئے فون کو تکیے کے نیچے رکھنا بھی اس کی زندگی کو مختصر کرسکتا ہے جس کی وجہ اس ڈیوائس میں پیدا ہونے والی حرارت ہے۔


فون کو چارجنگ کیبل پر لگا چھوڑ دینا


اپنے فون کو بیٹری فل ہونے پر بھی چارجر سے نہ نکالنا اس کی بیٹری کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔

التماسِ دعا

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

خون دینے اؤر نه دینے می فرق۔

 *خون دینے اور نہ دینے کے متعلق چند*

*سوالات۔۔۔*


👈سوال: خون دینے کا سب سے بڑا نقصان کیا ہے؟

جوآب: خون دینے کا نقصان کوئی نہیں البتہ

بلکہ بڑا فائدہ ہے کہ ریگولر خون دینے والے

فرد کو دل کے دورے اور کینسر کے چانسس

باقی افراد کے مقابلے میں 95% کم ہوتے ہیں۔۔یہ

ریسرچ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی ہے


👈سوال: کسی کو خون کا عطیہ دینے کے بعد کتنے دنوں میں خون بن جاتا ہے؟


جواب: خون عطیہ کرنے کے تین دن میں کمی پوری ہو جاتی ہے جبکہ 56 دنوں میں

خون کے مکمل خلیات بن کر تازہ خون رگوں میں دوڑنے لگتا ہے۔۔۔۔


👈سوال:پرانا خون ذیادہ طاقتور ہوتا ہے یا نیا بننے والا؟

جواب: نیا بننے والا خون پرانے کے بنسبت

ذیادہ فریش اور طاقتور ہوتا ہے۔۔


👈سوال: خون دینے کے فوائد کیا ہیں؟

جواب: خون دینے کا سب سے بڑا فائدہ

ایک صدقہ جاریہ میں حصہ ڈالنا ہے جو

قیامت تک نسل درنسل آپ کیلئے ثواب کا موجب ہے۔۔

اس کا دوسرا بڑا فائدہ خون میں آئرن کو مقدار بیلنس رکھنا اور سب سے سے بڑا فائدہ صحت مند اور فریش زندگی گزارنا ہے۔۔۔

ریگولر خون دینے والے کی جلد دوسروں کی بنسبت ذیادہ عرصے تک جوان اور صحتمند رہتی ہے۔۔۔

اس کا ایک فائدہ مفت میں خون کی اسکرینگ بھی ہے۔۔۔

👈سوال: خون سال میں کتنی بار دیا جا سکتا

ہے؟

جواب: ایک صحت مند انسان جس کی عمر

17 سے 50 کے درمیان ہو اور وزن 50 کلو سے 

ذیادہ ہوسال میں کم ازکم 

دو بار آسانی سے خون دے سکتا ہے جبکہ ایک بار خون دینے کے تین ماہ بعد عطیہ دے سکتا ہے۔۔۔

 

👈سوال : پاکستان میں کتنے فیصد

لوگ خون دیتے ہیں؟


جواب: پاکستان میں صرف ایک سے دو فیصد لوگ ریگولر خون دیتے ہیں۔۔

چند افراد ایمرجنسی میں بھی خون دیتے ہیں۔


👈سوال: خون کی زندگی کتنی ہے؟

جواب: خون کی زندگی 120 دن ہے۔۔

یعنی ایک سو بیس دن میں ہماری خون کے خلیہ مردہ ہو کر پیشاب کے رستے نکل جاتے

ہیں اور نئے وجود میں آ جاتے ہیں۔


👈سوال: پھر ہم خون دینے سے گھبراتے کیوں ہیں؟

جواب: ہم ایک ایسی سوسائٹی میں سانس لے رہے ہیں جہاں یہ بات پھیلی ہوئی ہے کہ

خون دینے سے انسان کمزور ہو جاتا ہے اور خون دوبارہ نہیں بنتا۔۔۔

لہذا ہمارے مریض

تڑپتے سسکتے بستروں پر خون کی کمی کی وجہ سے جان دے دیتے ہیں۔۔۔


👈سوال: خون دینے کا عالمی دن کب منایا جاتا 

ہے؟

جواب: چودہ جون کو 


نوٹ: یہ تحریر صدقہ جاریہ کی نیت سے لکھی گئی ہے آگے شئیر کریں اور اس کار

خیر میں شامل ہو جائیں


والسلام۔۔۔


*خون کا عطیہ دیں*

*زندگیاں بچائیں*