السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔
*زندگی پرسکون بنائیۓ*
اکثر انسان جن چیزوں کو اپنی زندگی کا محور اور مرکز بناتا ہے ، وہ عارضی فانی اور تغیر پذیر چیزیں ہوتی ہیں ، انسان بھی اسی میں آجاتے ہیں ، تو پھر ان میں نشیب و فراز آتے ہی رہتے ہیں،ان چیزوں کو سر پر سوار مت کریں۔
بقول علامہ اقبال
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں ۔۔
تمام تر باتیں کہنے کا مطلب یہ کہ زندگی کا حقیقی نصب العین صرف اللہ کی ذات ہے ، یہی وہ مرکز ہے جس کو پا کر زندگی سودوزیاں کے اندیشوں سے بہت بلند ہوجاتی ہے ، اور حوادثات زمانہ کے تھپڑوں میں پہاڑوں اور چٹانوں کی مانند ثابت قدمی اور استقامت کا پیکر بن جاتی ہے ۔
عارف رومی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ
یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند بتانِ وہم و گماں لا الہ الا اللہ ۔
یعنی دنیا کا مال دولت اور رشتے ناطے سب وہم و گماں کے بوتے ہیں ، کائنات کے اندر کوئی حقیقت ہے اور دل لگائے جانے کے قابل ہے تو فقط اللہ کی ذات ۔
اور اپنا حقیقی مرکز اللہ کی ذات کو بناتے ہیں تو ہماری ذات میں بیلنس آجاتا ہے تو ازن و ہم آہنگی آ جاتی ہے، stability a Jaati Hai.
*" عقلمند وہ ہے جو چیزوں کو ان کے مقام پر رکھے"*
اور ایک عام انسان کبھی ایک مسئلہ کو سر پر سوار کرتا ہے کبھی دوسرے کو اس سے زندگی میں عدم توازن آ جاتا ہے۔
اور پھر زندگی ڈانواں ڈول سے ہو جاتی ہے۔۔
لیکن جب ہم اپنا حقیقی مرکز اللہ کو بنا لیتے ہیں تو باقی تمام سرگرمیاں اس مرکز کے گرد گھومتی رہتی ہیں پھر ہر چیز اسی مقام پر ہوتی ہے جس پر اسے ہونا چاہیے۔
قلم کار ازخود عبدالوہاب عاجز ۔