اوور تھنکنگ کیا ہے!!!
سوچ کو روکنا ممکن نہیں لیکن اسکا بہترین حل یہ ہے کہ آپ سوچ کا پیچھا نہ کریں، جو بھی خیال ذہن میں آئے اسے جانے دیں، اسکا پیچھا نہ کریں اسے رپیٹ کر کر کے مزہ نہ لیں۔ جیسے کسی سے انتقام کی سوچ ذہن میں آئے تو انسان اسے بار بار مختلف انداز سے مختلف طریقوں سے انتقام لینے کا سوچتا ہے اور خود اس سوچ کا پیچھا کرتا ہے، اسی طرح مختلف اوہام کہ ہائے یہ نہ ہو جائے ہائے وہ نہ ہو جائے دماغ کو الجھائے رکھتے ہیں۔ یاد رکھیں منفی سوچیں شیطان اور نفس کے وسوسے ہیں، ان دونوں کا کام آپکو آئیڈیا دینا ہوتا ہے باقی کام آپ خود کرتے ہیں اس آئیڈیا کو فالو کر کے۔ بس آپ نے آئیڈیا کو فالو نہیں کرنا، جانے دینا ہے۔ سال چھ مہینے پریکٹس کریں گے تو عادت بن جائیگی اور اوور تھنکنگ آپکا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔ ورزش اور اچھے کاموں میں خود کو کھپا دریں۔
اوور تھنکنگ کا علاج
روحانی علاج کیلئے صبح شام کی مسنون دعائیں اور موذتین یعنی تینوں قل تین تین بار صبح شام پڑھیں۔ کلمہ طیبہ اور درود شریف کی کثرت رکھیں۔ توکل علی اللّٰہ رکھیں یعنی تقدیر کا لکھا کوئی نہیں ٹال سکتا میرے سوچنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، میں تو صرف دعا اور اپنی طرف سے مخلصانہ کوشش کر سکتا ہوں باقی اللّٰہ مالک ہے جو ہوگا دیکھا جائیگا۔
آپ کو اوور تھنکنگ سے روکنے کے لیے ١٠ آسان طریقے
ظاہری طور پر اوور تھنکنگ (یعنی زیادہ سوچنا) اتنی بری چیز نہیں لگتی۔ ۔ ۔ سوچنا تو اچھی بات ہے نا؟
لیکن اوورتھنکنگ مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
جب آپ زیادہ سوچتے ہیں تو آپ کے فیصلہ کرنے کی صلاحیت دھندلا جاتی ہے اور آپ کے سٹریس (یعنی ذہنی دباؤ) میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ آپ منفی سوچ میں وقت ضائع کر دیتے ہیں۔ یوں آپ کو کام کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔
اگر یہ مسئلہ آپ کو جانا پہچانا معلوم ہوتا ہے تو آپ کو اوورتھنکنگ سے آزاد کرنے کے لیے یہاں دس آسان تدابیر بتائی جا رہی ہیں۔
١۔ آگاہی ہی تبدیلی کی شروعات ہے
اس سے پہلے کہ آپ اپنی اوورتھنکنگ کی عادت کا مقابلہ کرنا شروع کریں آپ کو اپنی اوورتھنکنگ کے بارے میں ہوشیار اور مطلع ہونا ضروری ہے۔ جب بھی آپ خود کو بے چینی۔ ۔ ۔تذبذب ۔ ۔ ۔ہچکچاہٹ یا ذہنی دباؤ کا شکار پائیں ایک لمحے کے لیے رک جائیں۔ صورتِ حال اور اپنے ردِ عمل کا جائزہ لیں۔ آگاہی کے اسی لمحے میں آپ کو اس تبدیلی کا اشارہ مل جائے گا جو آپ کی ضرورت ہے۔
2- یہ نہ سوچیں کہ کون سے کام بگڑ سکتے ہیں بلکہ ان کاموں پر دھیان دیں جو ٹھیک ہو سکتے ہیں
بہت سی حالتوں میں اوور تھنکنگ کی وجہ صرف ایک ہی احساس بنتا ہے: (وہ ہے) "خوف"۔ جب آپ اپنی توجہ تمام منفی باتوں کے رونما ہونے پر مرکوز کرتے ہیں تو بے کار رہنا آسان ہو جاتا ہے۔ آئندہ جب آپ کو ایسا لگے کہ آپ منفی سمت واپس جانے لگے ہیں تو رک جائیں۔ اپنی توجہ ان کاموں کی طرف کر لیں جو ٹھیک کئےجا سکتے ہیں اور انہی خیالات کو حاضر اور مقدم رکھیں۔
3- خود کو خوشی کی طرف موڑ لیں
بعض اوقات خود کو خوش۔ ۔ ۔مثبت اور مفید متبادل راستوں پر ڈال دینا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ مراقبہ۔ ۔ ۔ رقص کرنا۔ ۔ ۔ کوئی ساز سیکھنا۔ ۔ ۔ سلائی کڑھائی کرنا۔ ۔ ۔ مصوری یا رنگ سازی جیسی چیزیں آپ کو مسائل سے دور کر دیتی ہیں اور حد سے زیادہ تجزیہ کرنا ختم ہو جاتا ہے۔
4- حالات کو ظاہری تناسب سے پرکھیں
باتوں کو ضرورت سے زیادہ بڑا بنا دینا یا منفی بنا دینا ہمیشہ آسان ہوتا ہے۔ آئندہ جب آپ خود کو کسی بات کا بتنگڑ بناتا ہوا پائیں۔ ۔ ۔ خود سے ضرور پوچھیں کہ یہ معاملہ اگلے پانچ سالوں میں کتنا اہم ہو گا۔ یا اگلے ماہ یہ مسئلہ کس نہج پہ ہو گا؟ بس یہ سادہ سا سوال۔ ۔ ۔ یعنی خیالات میں وقت کی حد کو بدل دینا اوور تھنکنگ کو ختم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔