Friday, May 20, 2022

خوف و دہشت پر مبنی داستان۔قسط نمبر 7

 خوف و دہشت پر مبنی داستان ✍

کتاب 📖:

قسط نمبر 7

۔


اب یہاں سے پڑھیے☆☆☆☆☆


میں بس چپ چاپ اسے دیکھنے لگا۔

"ہم تینوں مضطرب دروازے کی جانب دیکھنے لگے۔ابا اس وقت تک کسی کو فون کر چکے تھے۔میں نے اندازہ لگایا کہ وہ ولی شاہ ہوں گے۔جب یہ خاموشی طویل ہونے لگی تو اماں دروازہ پیٹنے لگیں۔۔

"کون ہو تم؟؟؟ ہم نے کیا بگاڑا ہے تمہارا؟؟؟ کیوں میری معصوم بچی کے پیچھے پڑ گئے ہو؟"

اتنا کہنا تھا کہ اماں کو ایک زوردار دھچکہ لگا۔جیسے کسی نادیدہ قوت نے انہیں ہوا میں اچھالا ہو۔اماں سیدھا پچھلی دیوار پر جالگیں۔ان کا سر شاید پھٹ گیا تھا۔خون ان کے چہرے سے ہوتا ہوا ٹپ ٹپ زمین پر گرنے لگا۔ میں اور ابا اماں کی طرف دوڑے۔ ابھی اماں کے نزدیک ہی پہنچے تھے کہ کمرے سے ہانیہ کی ایک زوردار چیخ سنائی دی۔ اماں کی طرف دوڑتے دوڑتے ہم دونوں واپس کمرے کی طرف پلٹے۔دروازہ شاید کھل چکا تھا۔جیسے ہی ہم کمرے میں داخل ہوئےمیرے ہاتھ پاوں پھول گئے۔ ہانیہ دیوانہ وار اپنا سر دیوار پر مار ے جارہی تھی۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی ان دیکھی طاقت اس کا سر پکڑ کر دیوار سے ضربیں لگا رہی ہے۔ ابا جیسے ہی اس کے نزدیک گئے ہانیہ کا ہاتھ فضا میں بلند ہوا۔ ابا کے سینے سے ٹکرایا۔اور ابا کئی فٹ پیچھے جا کھڑے ہوئے۔ اتنے میں دروازے کی بیل بجی۔ابا چلائے

"عائشہ دروازہ کھولو شاہ صاحب ہوں گے"

میں شاید ذندگی میں پہلی اور آخری مرتبہ اتنا تیز دوڑی تھی۔ جونہی دروازہ کھولا ولی شاہ سامنے کھڑے تھے۔مجھ سے ہمکلام ہوئے بغیر ہی گھر میں داخل ہوگئے۔ اماں کے سر سے ابھی بھی خون بہہ رہا تھا۔

"آپ آنٹی کو دوسرے کمرے میں لے جائیں اور ان کی مرہم پٹی کریں۔میں سنبھالتا ہوں یہ سب"

ولی شاہ نے مڑ کر مجھے کہا۔ میں روبوٹک انداز میں ان کے کہتے ہی اماں کی جانب دوڑی۔اماں ہانیہ کے پاس جانے کے لیے ضد کرنے لگیں تو ولی شاہ نے سختی سے انہیں مخاطب کیا

"دیکھیں اگر آپ اس طرح ضد کرتی رہیں تو میں ہانیہ کو نہیں بچا پاوں گا۔"

یہ سنتے ہی اماں جلدی سے اٹھیں اور میرے ساتھ چل دیں۔میں نے ایک لمحے کو مڑ کر دیکھا۔ولی شاہ کمرے میں داخل ہوچکے تھے۔

میں نے اماں کو بیڈ پر بٹھایا۔وہ روئے جا رہی تھیں۔ میرے پاس ان کی تسلی کے لیے الفاظ نہ تھے۔میں نے اپنا دوپٹہ پھاڑا اور اس کا ایک حصہ اماں کے زخم والے حصے پر باندھ دیا۔

"عائشے خدا کے لیے جااندر۔میری ہانی کی خبر لا"

اماں نے روتے ہوئے کہا۔میں خود بھی یہیں چاہ رہی تھی۔ فوراً اپنے کمرے کی جانب دوڑی۔"

میری نبض جیسے اب اس کی آواز کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ یہ کیا چیز تھی؟؟ یہ کیسی قوت تھی؟؟؟ وہ آواز جیسے میرے لیے گریویٹی بن گئی تھی۔جو مجھے اپنی طرف کھینچے جارہی تھی۔

"اندر کا ماحول ہی کچھ اور تھا۔ہانیہ اب ہانیہ نہ تھی۔اس کے چہرے پر بڑی بڑی دراڑیں پڑ چکی تھیں۔ منہ سے کوئی کالا مائع بہہ رہا تھا۔اس کا دودھیا چہرہ اب سیاہ ہوچکا تھا۔کنپٹیوں پر رگیں ایسے پھولی ہوئی تھیں جیسے ابھی پھٹیں۔ وہ ایک کونے پر دبکی بیٹھی تھی۔چہرے پر عجیب سی طنزیہ مسکان تھی۔اسے دیکھنا ہی اذیت تھی۔میں نے سختی سے اپنی آنکھیں بھینچ لیں۔ ولی شاہ کی مٹھی میں کچھ تھا۔جس پر وہ وقفے وقفے سےکچھ پڑھ کر پھونک مارتے جاتے۔ کچھ دیر بعد انہوں نے مٹھی کھولی۔ شاید کوئی سرمائی رنگ کا سفوف تھا۔ جو انہوں نے ہانیہ کی طرف اچھالا۔پورا گھر خوفناک چیخوں سے گونج اٹھا۔رونے،دھاڑنے،بین کرنے کی آوازیں۔جیسا ایک پورا خاندان مل کر ماتم زدہ ہو۔ میں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔ یہ سلسلہ چند منٹ چلتا رہا۔پھر ایک دم سناٹا چھا گیا۔ میں نے ہانیہ کی طرف دیکھا۔وہ اوندھے منہ فرش پر پڑی تھی۔دوڑ کر اس کے پاس گئی۔کانپتے ہاتھوں اس کا چہرہ سیدھا کیا۔۔۔۔"

مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ سب عائشہ کے ساتھ نہیں بلکہ میرے ساتھ ہوا ہو۔ میں اس کا غم اپنے اندر جزب ہوتا محسوس کرنے لگا تھا۔اسی لیے مجھے نکوٹین کی طلب ہوئی۔۔۔سیگریٹ کی۔۔۔۔ جو نجانے کتنے سالوں سے ایسے موقعوں پر میرا خوب ساتھ نبھاتی تھی۔بعض اوقات تو یہ سیگریٹ مجھے اپنی محبوبہ لگنے لگ جاتی۔میرے سیگریٹ سلگاتے ہی اس نے اپنی کہانی جاری رکھی

"وہ ہماری ہانیہ ہی تھی۔ مگر اس کے چہرے کی وہ سرخی پیلاہٹ میں بدل چکی تھی۔ اس کے ہونٹ جو مسلسل مسکراتے رہتے آج بھنچے ہوئے تھے۔اپنی معصوم بہن کو اس حالت میں دیکھ میری آنکھوں میں آنسوں آگئے۔

"یہ اب کل تک اسی حالت میں رہیں گی۔ آپ انہیں بیڈ پر لِٹا دیں۔ فکر نہ کریں باقی رات اب کچھ نہیں ہوگا"

اتنا کہہ کر ولی شاہ باہر چلے گئے۔میں نے ابا کی مدد سے ہانیہ کو بیڈ پر لٹایا۔اس کا جسم سرد پڑ چکا تھا۔اماں اب کمرے میں آچکی تھیں۔ ایک چادر اس کے اوپر جوڑ کر میں ابا کے ساتھ باہر چلی آئی۔اماں وہیں ہانیہ کے سرہانے بیٹھ کر تلاوت کرنے لگ گئیں۔ ان کے چہرے پر کمزوری کے آثار نمایاں تھے۔ولی شاہ باہر ٹہل رہے تھے۔

"امجد صاحب مجھے آپ دونوں سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔"

ابا مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔ پچھلے دو ایک گھنٹے میں جو مصیبت ہم پر گزری تھی ابا اس کے حصار سے باہر آچکے تھے۔۔۔۔یا شاید ایکٹنگ کر رہے تھے۔۔۔کیونکہ والد ہمیشہ مضبوط ہونے کی ایکٹنگ ہی تو کرتا ہے۔۔۔۔ 

"جی بولیں شاہ صاحب کیا بات ہے؟"

"امجد صاحب میری عادت ہے کہ میں بغیر کسی لگی لپٹی کے بات کرتا ہوں۔"

ولی شاہ نے بیٹھتے ہوئے کہا

"میں نے اس سے پہلے ایسی قوتوں کا کسی پر اتنا شدید اثر نہیں دیکھا۔عام طور پراتنی جلدی اس طرح کا اثر وہ مخلوق ہی رکھتی ہے جو ہمارے بس سے باہر ہو۔آپ کا یہ اپارٹمنٹ شاید کسی زمانے میں شیطانی سرگرمیوں کی آماجگاہ رہا ہے۔یہ سب انہی سرگرمیوں کی دین ہے۔"

ولی شاہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔

"آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ اس مخلوق سے نہیں لڑ سکتے؟"

ابا ولی شاہ کی بات سن کر پریشان ہوگئے۔

"میں کوشش تو کر سکتا ہوں مگر گارنٹی نہیں دے سکتا۔آپ کے پاس وقت بہت کم ہے۔ اس لیے آپ کی آخری امید میں ہی ہوں۔ باقی ماندہ رات اپنے کام پر لگ جاوں گا۔کل مغرب سے پہلے ہی واپس آجاوں گا۔اگر کل کی رات کسی طرح ہم نے کاٹ لی تو پھر خیر ہی خیر ہے۔آپ سب بس خدا کے سامنے سربسجود ہو کے میری کامیابی کی دعا کریں۔"

ولی شاہ اتنا کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔

"میں آپ کا تہہ دل سے مشکور ہوں شاہ صاحب"

ابا نے احسان مندانہ کہا۔

"یہ میرا کام ہے امجد صاحب۔ اپنا کام کر کے میں کسی پر احسان نہیں کر رہا۔آپ بس اپنی بچیوں کے لیے دعا کریں"

ولی شاہ یہ کہہ کر باہر چلے گئے۔میں نے اور ابا نے ان کی آخری بات پر شاید پوری طرح دھیان نہ دیا تھا۔وہ "بچیوں" کہہ کر گئے تھے۔مطلب خطرے میں صرف ہانیہ نہ تھی۔"

میں اس کی بات پر چونکا۔کیونکہ اب تک جو بھی واقعات بیان کیے گئے ان سے واضح تھا کہ اس مخلوق کا نشانہ ہانیہ ہی تھی۔

"اماں کو کسی طرح کچھ ادویات کھلا کر سلا دیا۔میں اور ابا رات بھر جاگتے رہے۔صبح ہوتے ہی ابا اماں کو ہسپتال لے گئے۔ہانیہ دوپہر تک ویسے ہی سوئی رہی۔جب اٹھی تو کافی ہلکان ہوچکی تھی۔ اپنے کہے مطابق ولی شاہ سرشام ہی پہنچ گئے۔ سب نے کسی طرح کھانا زہر مار کیا۔ پھر ولی شاہ نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا

"آج رات آپ سب ایک ہی کمرے میں رہیں گے جبکہ میں بچیوں کے کمرے میں رہوں گا۔کچھ بھی ہوجائے آپ میں سے کوئی بھی اس کمرے میں نہیں آئے گا۔"

ہم نے ان کی بات من وعن قبول کر لی۔ عشاء کی نماز پڑھتے ہی ولی شاہ ہمارے کمرے میں چلے گئے اور اندر سے کنڈی لگا دی۔ ہم لوگ ابا اماں کے کمرے میں بیٹھ گئے۔ایک گھمبیر سناٹا تھا۔سب اپنی اپنی جگہ پر خاموش بیٹھے دل ہی دل میں دعائیں مانگ رہے تھے۔ دو تین گھنٹے یونہی گزر گئے۔پھر ایک دم عجیب سا شور شرابہ شروع ہو گیا۔ دروازے اور کھڑکیاں اس طرح بجنے لگے جیسے کوئی بہت بڑا طوفان آگیا ہو۔ زمین لرزنا شروع ہوگئی۔ہم سب سہم کر ایک دوسرے کے قریب ہوتے گئے۔اماں زور زور سے کلمہٰ پڑھنے لگ گئیں۔ابا نے مجھے اور ہانیہ کو اپنے قریب کر لیا۔جیسے کوئی بچہ اپنا کھلونا چھن جانے کے ڈر سے اسے سینے سے لگائے پھرتا ہے۔ ہمارے کمرے سے عجیب و غریب آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ ایسا لگتا تھا کہ ہزاروں مرد و زن مل کر بین کر رہے ہوں۔ اور پھر۔۔۔۔"

وہ خاموش ہوگئی۔جیسے "اور پھر" سے آگے اس کی ہمت جواب دے گئی ہو۔میں نے بے چینی سے اپنا پہلو بدلا۔۔۔

"اور پھر ایک دم ہمارے کمرے کا دروازہ کھلنے کی ایک زور دار آواز آئی۔اس کے ساتھ ہی ولی شاہ کی چیخیں سنائی دیں۔ابا بھاگ کر دروازے تک پہنچے۔ نامعلوم انہوں نے کو نسا منظر دیکھا کہ سکتے کی حالت میں بت بن گئے۔ان کی حالت دیکھ میں جب وہاں پہنچی تو ایک لمحے کو میں بھی جیسے کومے میں چلی گئی۔ ہمارے سامنے دیوار کے ساتھ ولی شاہ پڑے تھے۔ان کا جسم رفتہ رفتہ دو ٹکڑے ہو رہا تھا۔ان کا چہرہ مسخ ہوچکا تھا۔ کچھ لمحوں میں ولی شاہ کی جگہ جسم کے دوٹکڑے پڑے تھے۔ابا نے بھاگ کر ہانیہ کو سینے سے لگایا۔میں نے اماں کو پکڑا۔ہم باہر کی طرف بھاگے۔ مگر جیسے ہمارے فرار کے تمام راستے بند ہوگئے۔اب وہاں دروازے نہیں ہر طرف دیواریں ہی دیواریں تھیں۔ہانیہ ابا کے ہاتھ سے نکلتی جارہی تھی۔اس کی فلک شگاف چیخیں ہم سب کا سینہ چھلنی کیے جارہی تھیں۔تب ہی مجھے ولی شاہ کی گزشتہ رات والی بات یاد آئی۔میں نے چِلا کر کہا

"میری بہن کو چھوڑ دو۔خدا کے لیے اسے چھوڑ دو۔تمہیں قربانی چاہیے نا؟؟؟؟؟ مجھے لے لو۔میں خود کو اپنی بہن کی جگہ پیش کرتی ہوں۔۔۔"

اتنا کہنا تھا کہ ہانیہ یک دم زمین پر گری۔وہ بے ہوش ہوچکی تھی شاید۔ تھوڑی دیر سناٹا رہا۔۔۔پھر۔۔۔ مجھے اپنا جسم ٹوٹتاہوا محسوس ہوا۔میں نے مڑ کر بے بسی سے ابا کو دیکھا۔ابا میری جانب دوڑے۔اس سے پہلے کہ وہ مجھ تک پہنچتے میں ہوا میں معلق ہوچکی تھی۔مجھے لگا جیسے میں اپنی دنیا سے نکل کر اندھیروں کی دنیا میں آچکی تھی۔مجھے اپنے ارد گرد ہزاروں ہاتھ نظر آنے لگے۔جیسے وہ مجھے نوچنا چاہتے ہوں۔ پھر میری نظراس عورت پر پڑی۔وہ اپنا مکروہ چہرہ لیے رفتہ رفتہ میری طرف بڑھ رہی تھی۔اس کے ہاتھ میں خنجر تھا۔میں جان چکی تھی کہ یہ میرا آخری وقت ہے۔میں ابا،اماں اور اپنی ہانی کو ایک بار دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔مگر جیسے میرے جسم کی حرکات وسکنات بند ہوچکی تھیں۔ آخری آواز جو میرے کانوں میں پڑی وہ ابا کی چیخ تھی۔۔۔ان کی ایک بیٹی تو بچ چکی تھی۔۔۔مگر دوسری ان شیطانی قوتوں کی بھینٹ چڑھ گئی۔۔۔میں اپنی قربانی دے کر اپنی ہانی کو بچانے میں کامیاب ہو گئی۔۔۔ میں امر ہوگئی۔۔۔۔"

وہ خاموش ہوچکی تھی۔پہلے کرداروں کی طرح وہ نہ تبدیل ہوئی نہ گری۔بلکہ میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ روشنی میں بدل گئی۔نور میں بدل گئی۔وہ نور میرے پورے گھر کو روشن کیے جا رہا تھا۔مجھے سمجھ آچکی تھی کہ میں کیوں اس کی طرف کھنچا جا رہا تھا۔میں سمجھ چکا تھا کہ وہ محض ایک انسانی وجود نہ تھی۔وہ انسانیت تھی۔وہ پیار اور قربانی کا مجسمہ تھی۔ اس دنیا کی وہ واحد اچھائی تھی جس کی بنا پر یہ دنیا قائم تھی۔۔۔میں اپنے آنسووں کی گرمائش اپنے چہرے پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔

جاری 

☆☆☆☆

خوف و دہشت پر مبنی داستان ✍

کتاب 📖:

قسط نمبر 8


وہ روشنی بن کر اس اندھیر نگری کو جگمگانے جا چکی تھی۔میرے حواس پر اپنی قربانی کی گہری چھاپ لگا گئی تھی۔میں مزید کوئی کہانی پڑھنے کے موڈ میں نہ تھا۔مگر پھر۔۔۔آج کی رات میں اپنے بس میں نہ تھا۔ میں کتاب کی گرفت میں تھا جو کہ میرے ہاتھ میں تھی۔نیا باب کھل چکا تھا۔۔۔ The Teacher۔۔۔ میں نے بے دلی سے کہانی شروع کی۔۔۔

"میرا نام شاہ زین ہے۔۔۔"

میں نے اب ارادتاً ہی سامنے دیکھا۔سفید شرٹ اور بلیک پینٹ میں ایک 30-32 سال کا خوش شکل بندہ بیٹھا تھا۔اس نے سرخ ٹائی لگا رکھی تھی۔داڑھی شیوڈ اور ہلکی ہلکی مونچھیں۔۔ بظاہر معزز اور پروفیشنل لگتا تھا۔۔۔

"میں ایک مشہور نجی ادارے میں ٹیچر تھا۔ میرے نام کا ڈنکا دور دور تک بجتا تھا۔ بائیولوجی کے حوالے سے میرا نام سٹوڈنٹس کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ میرے کولیگز مجھ پر رشک کرتے تھے۔"

میں یہ سب بے دلی سے سن رہا تھا۔

"اس رات بہترین رزلٹ کی خوشی میں ادارے میں اساتزہ کی ٹی پارٹی تھی۔گپ شپ میں کافی وقت گزر گیا۔تقریباً 8 بجے میں وہاں سے نکلا۔گھر کے راستے میں ایک سنسان گلی پڑتی تھی۔جیسے ہی میں وہ گلی مڑا۔یک دم میرے سامنے کوئی آگیا۔ میں ابھی سنبھلا نہ تھا کہ اس نے ایک رومال میرے منہ پر رکھا۔اس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہ رہا۔ نجانے کتنی دیر بعد میں ہوش میں آیا۔مجھے اپنے ہاتھ ایک کرسی سے بندھے محسوس ہوئے۔ میں نے جونہی ہاتھ ہلانے کی کوشش کی درد کی شدید لہریں میرے جسم میں سرایت کر گئیں۔ میں نے ہاتھوں کی طرف دیکھا تو میرے ہوش اڑ گئے۔ دونوں ہاتھ کرسی کے بازووں پر بڑے بڑے کیلوں کی مدد سے ٹھونکے ہوئے تھے۔مگر خون کا ایک قطرہ بھی نہ تھا۔جیسے کسی نے کمال مہارت سے یہ کام کرنے کے بعد میرے ہاتھ صاف کردیے ہوں۔ شدید درد کے باعث میں اب ہاتھ ہلانے سے قاصر تھا۔برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میں نے ارد گرد دیکھا۔یہ کوئی کمرہ تھا۔جو مختلف کاٹھ کباڑ سے بھرا پڑا تھا۔ کمرے کے درمیان میں ایک چھوٹا سا بلب لٹکا ہوا تھا۔جس کی روشنی کافی مدہم تھی۔ غور کرنے پر ایک کونے میں کوئی شخص بیٹھا دیکھائی دیا۔ یقیناً وہیں تھا جو مجھے یہاں تک لایا تھا۔مجھے ہوش میں آتا دیکھ وہ آہستہ آہستہ میری طرف بڑھنے لگا۔ قریب پہنچنے پر معلوم ہوا کہ اس نے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا۔"

قدرتی طور پر اب میں اس شخص کی طرف متوجہ ہونے لگا۔یا شاید اسے میری مکمل توجہ کا مرکز بنایا جا رہا تھا۔

"میں سمجھا شاید یہ کوئی اغوا برائے تاوان کا معاملہ ہے۔ مگر پھر اس نے میرے ہاتھوں کا یہ حال کیوں کیا؟؟؟ کہیں کوئی ذاتی رنجش؟؟؟نہیں نہیں میری تو ہر ایک سے بنی ہوئی تھی۔مخالفت تو عام بات ہے مگر ایسا تو کوئی دشمنی میں ہی کرتا ہے۔تو پھر وہ کون تھا؟؟؟؟ اس سوال کا جواب وہ خود ہی دے سکتا تھا۔ 

"کون ہو تم؟؟؟؟؟ کیا چاہتے ہو مجھ سے؟؟؟؟"

ماسک سے محض اس کی سرخ آنکھیں ہی دیکھائی دے رہی تھیں۔جو مجھ پر گڑی ہوئی تھیں۔میرے سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ وہ چپ چاپ کھڑا مجھے دیکھتا رہا۔

اس کا انداز بہت عجیب اور خوفناک تھا۔ میری بے بسی کہ میں خود کو آزاد کروانے کی کوشش سے بھی قاصر تھا۔ وہ مسلسل مجھے گھورے جارہا تھا۔اس کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے میں نے نگاہیں نیچی کر لیں۔اس نے اپنا ہاتھ میری ٹھوڑی پر رکھ کر میرا چہرہ اوپر اٹھایا۔دائیں بائیں موڑ کر دیکھا۔ جیسے اس کے لیے میں کوئی قربانی کا بکرا تھا۔

"تم بائیولوجی پڑھاتے ہو۔سنا ہے یگانہ روزگار ہو۔ یہ بتاو جسم کے کس حصے پر گولی لگنے سے درد بے انتہا ہوتا ہے؟؟"

اس کی آواز خاصی مردانہ تھی۔سوال عجیب تھا۔میں نے چونک کر اسے دیکھا۔ 

"اچھا چھوڑو یہ بتاو جب گھٹنے پر خاص کر قریب سے گولی لگتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟؟؟"

ایک اور سوال۔۔۔مگر نجانے کیوں میں اسے جواب دینے سے گھبرا رہا تھا۔جب میں کچھ نہ بولا تو وہ خود گویا ہوا

"چلو میں بتاتا ہوکہ گھٹنے پر جب ایک خاص نشانے سے گولی لگتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔ گھٹنہ کارٹیلیج،لگامنٹ،مسلز اور نروز پر مشتمل انتہائی نازک نظام ہوتا ہے۔وہ گولی ارد گرد کے تمام ٹشوز کو چیرتی ہوئی گہرائی تک چلی جاتی ہے۔ اندرونی ساخت چورا بن جاتی ہے۔شروع میں ایک دھچکا محسوس ہوتا ہے۔پھر ایسے لگتا ہے جیسے پوری ٹانگ میں آگ لگ گئی ہو۔ کچھ ہی دیر بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر ذرا سی بھی ٹانگ ہلائی تو ٹوٹ کر جسم سے الگ ہو جائیگی۔پھر وہ ٹانگ شل پڑ جاتی ہے جیسے کبھی موجود ہی نہ تھی۔ ہاں مگرعموماً انسان مرتا نہیں ہے۔ بس ٹانگ کاٹنی پڑ جاتی ہے۔"

وہ یہ سب کیوں بتا رہا تھا؟؟؟ کیا وہ مجھے ذہنی تشدد کا شکار بنانا چاہتا تھا؟؟؟ اگر ایسا تھا تو وہ کامیاب ہوچکا تھا۔ 

تب ہی میری نظر اس کے بائیں ہاتھ پر پڑی۔جس میں ایک چھوٹا سا پسٹل تھا۔میرا حلق خشک ہوگیا۔اس نے وہ پسٹل میرے بائیں گھٹنے پر پھیرنا شروع کردیا۔۔۔

"جانتے ہو ٹیچر۔۔۔ میں تمہیں اسی درد کا احساس دلانے جا رہا ہوں۔ اچھا ہے۔تمہارا تجربہ ہو جائے گا۔ویسے بھی تمہیں نت نئے تجربے کرنے کا شوق ہے نا"

میں نے اپنی ٹانگ پیچھے کھینچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔۔۔

"ہو کون تم؟؟؟؟؟؟؟ میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا؟؟؟"

اس نے میرے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا

"ششششششش۔۔۔۔"

اور پھر ۔۔۔"ٹھا"۔۔۔ایک زوردار آواز کمرے میں گونجی۔ مجھے شدید دھچکا لگا۔پھر ایسے لگا جیسے ٹانگ کے اندر ہی کسی نے پگھلا ہوا فولاد ڈال دیا ہو۔رفتہ رفتہ جلن کا یہ احساس ایک ناقابل بیان درد میں بدلنے لگا۔سب ویسا ہی ہو رہا تھا جیسا اس نے بولا تھا"

میں نے فوراً اس کی ٹانگ پر نظر دوڑائی۔خون کے فوارے بہہ رہے تھے۔اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔یہ سارا بیان سن کر ویسے ہی خود میرے جسم میں ایک سرد لہر اٹھ چکی تھی۔ 

"میں جتنی شدت سے چلا سکتا تھا چلایا۔وہ درد مجھ سے ہرگز برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ وہ آرام سے کھڑا مجھے دیکھتا جارہا تھا۔جیسے میری دردناک چیخیں اس کے لیے باعثِ اطمینان ہو۔ 

"کککککک۔۔۔کون ہو تممم؟؟؟؟؟؟؟ ککک۔۔کیا۔۔۔کیا۔۔۔بگاڑا۔۔۔"

مجھ سے مزید نہیں بولا جارہا تھا۔

"اتنی جلدی کیوں ہے ٹیچر؟؟؟؟ تعارف کو آخر پہ چھوڑ دو۔ابھی تم اس درد سے لطف اندوز ہو لو۔ تب تک کچھ باتیں کرلیتے ہیں۔"

یہ کیسا انسان تھا؟؟؟ انسان تھا یا درندہ؟؟؟؟ 

"ٹیچر۔۔۔یہ بتاو کافی خوش شکل ہو تم۔ذہین ہو۔ ہر جگہ تمہارے ڈنکے بجتے ہیں۔کبھی ان سب باتوں کا فائدہ اٹھایا ہے؟؟؟ سمجھ رہے ہو نا میرا مطلب؟؟؟؟"

میں اس کی بات پر چونکا۔۔۔۔کیا مطلب؟؟؟ کیسا فائدہ؟؟؟؟ وہ کیا کہہ رہا تھا؟؟؟

"اچھا چھوڑو۔۔۔یہ بتاو ایک استاد کا اپنے شاگرد کے ساتھ تعلق کیسا ہوتا ہے؟؟؟ روحانی باپ کا نا؟؟؟"

وہ شخص مجھے ذہنی مریض لگنے لگا۔یہ کوئی ذاتی رنجش یا دشمنی نہ تھی۔وہ اذیت پسند ذہنی مریض تھا۔ اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک چھوٹا پیچکس نکال لیا۔

"ٹیچر تم میری کسی بات کا جواب نہیں دے رہے۔کتنی بری بات ہے۔مجھے تمہیں سزا دینی ہوگی"

اتنا کہتے ہی اس نے وہ ہاتھ بلند کیا۔۔۔پیچکس میرے گھٹنے سے اوپر مسلز میں سوراخ کرتے ہوئے نیچے تک چلا گیا۔میں جو پہلے ہی حواس باختہ ہوچکا تھا اس بار دیوانہ وار چیخنا شروع کر دیا۔اس نے وہ پیچکس نکالتے ہوئے کہا

"اب بولو ٹیچر ۔۔۔روحانی باپ نا؟؟؟"

میں نے کراہتے ہوئے فوراً اپنا سر اثبات میں ہلایا۔

"شاباش۔۔۔۔اب یہ بتاو۔۔۔کیا تم نے اس رشتے کا پاس رکھا؟"

میں متذبذب تھا۔آخر وہ کیا کہلوانا چاہتا تھا مجھ سے۔۔۔ میں نے پھر اثبات میں سر ہلایا۔ اس کا ہاتھ ایک بار پھر فضاء میں بلند ہوا۔اسی سوراخ کے ساتھ ایک اور سوراخ۔۔۔ایک اور دردناک چیخ۔۔۔ 

"جھوٹ۔۔۔۔۔جھوٹ۔۔۔۔جھوٹ نہیں ٹیچر۔۔۔جھوٹ نہیں۔۔۔" 

اس نے چیختے ہوئے کہا۔۔۔۔"

گھٹنے سے اوپر اس کی ٹانگ پر پینٹ میں دو سوراخ ہوچکے تھے۔خون ان حصوں سے ایسے نکل رہا تھا جیسے پائپ سے پانی نکلتا ہے۔ 

"میں نے بے بسی سے اسے دیکھا۔تبھی اس نے اپنی دوسری جیب سے ایک تصویر نکالی۔اور میری آنکھوں کے نہایت نزدیک لا کر زور سے چلایا

"پہچانتے ہو اسے ٹیچر؟؟؟؟؟؟؟؟ پہچانو اسے تم۔یا میں پہچان کرواوں؟؟؟؟؟؟"

شروع میں مجھے وہ تصویر دھندلی دیکھائی دی۔۔۔پھر آہستہ آہستہ جیسے ہی منظر صاف ہوا۔۔۔۔ مجھے جیسے 220 وولٹ کا دھچکا لگا۔مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ 

"یییی۔۔۔یہ؟؟؟؟؟ "

میری آنکھیں فرط حیرت سے پھیل گئیں۔

"ہاں۔۔۔یہ۔۔۔پہچانو اس معصوم ہنستے مسکراتے چہرے کو۔یہ علینہ ہے۔میری بہن۔۔۔"

وہ واقعی علینہ تھی۔آج سے دو سال پہلے میری سٹوڈنٹ رہ چکی تھی۔مگر یہ شخص علینہ کا بھائی؟؟؟؟ میرے گلے میں کانٹے چھبنے لگے۔۔۔اب مجھے ساری بات سمجھ آنے لگی تھی۔۔۔"

جاری ہے۔۔۔

☆☆☆☆☆۔

Artikel Terkait